کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: مرد کی طرف سے دودھ (پلانے کی کوشش) سے کوئی حرمت ثابت نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1186
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ: أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَرْضَعَتْهَا أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ امْرَأَةُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ: وَكَانَ الزُّبَيْرُ دَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أَمْتَشِطُ، فَيَأْخُذُ بِقَرْنٍ مِنْ قُرُونِ رَأْسِي فَيَقُولُ: أَقْبِلِي عَلَيَّ فَحَدِّثِينِي، أُرَاهُ أَنَّهُ أَبِي، وَمَا وَلَدَ فَهُمْ إِخْوَتِي. ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَبْلَ الْحَرَّةِ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ فَخَطَبَ إِلَيَّ أُمَّ كُلْثُومٍ ابْنَتِي عَلَى حَمْزَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَكَانَ حَمْزَةُ لِلْكَلْبِيَّةِ فَقَالَتْ لِرَسُولِهِ: وَهَلْ تَحِلُّ لَهُ، إِنَّمَا هِيَ ابْنَةُ أُخْتِهِ؟ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّمَا أَرَدْتُ بِهَذَا الْمَنْعِ لِمَا قِبَلَكَ لَيْسَ لَكَ بِأَخٍ أَنَا وَمَا وَلَدَتْ أَسْمَاءُ فَهُمْ إِخْوَتُكَ، وَمَا كَانَ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ غَيْرُ أَسْمَاءَ فَلَيْسُوا لَكَ بِإِخْوَةٍ، فَأَرْسِلِي فَسَلِي عَنْ هَذَا: فَأَرْسَلْتُ فَسَأَلْتُ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ وَأُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالُوا لَهَا: إِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنْ قِبَلِ الرَّجُلِ لَا تُحَرِّمُ شَيْئًا، فَأَنْكَحَتْهَا إِيَّاهُ فَلَمْ تَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى هَلَكَ.
حافظ محمد فہد
عبید بن عبد اللہ بن زمعہ سے روایت ہے کہ اس کی ماں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا کو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیوی اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا تھا۔ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ زبیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آتے اور میں کنگھی کر رہی ہوتی تو وہ میری مینڈھیوں میں سے ایک پکڑ کر فرماتے: ”آؤ مجھ سے باتیں کرو“، اور میں انہیں اپنا (رضاعی) باپ اور ان کے بیٹوں کو اپنے بھائی سمجھتی تھی۔ پھر واقعہ حرہ سے پہلے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے میری بیٹی ام کلثوم سے حمزہ بن زبیر کے نکاح کا پیغام بھیجا۔ حمزہ دوسری بیوی (کلبیہ) سے تھے، زینب نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے قاصد سے کہا: ”کیا اس کے ساتھ اس کا نکاح جائز ہے؟ کیونکہ یہ تو اس کی بھانجی ہے“۔ پھر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے دوبارہ میری طرف قاصد بھیجا اور فرمایا: ”حمزہ آپ کا بھائی نہیں کیونکہ جو اسماء رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں صرف وہ آپ کے بھائی ہیں، اور جو زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے اسماء کے علاوہ دوسری عورتوں سے ہیں وہ آپ کے بھائی نہیں ہیں۔ کسی کو بھیج کر اس مسئلہ کی تحقیق کر لو“۔ زینب کہتی ہیں میں نے قاصد بھیجے اور خود بھی پوچھا اس وقت کافی صحابہ رضی اللہ عنہم اور امہات المومنین موجود تھیں۔ تو ان سب نے زینب کو بتایا کہ آدمی کی طرف سے رضاعت سے کچھ بھی حرام نہیں ہوتا۔ پھر زینب نے اپنی بیٹی (ام کلثوم) کا نکاح حمزہ بن زبیر سے کر دیا اور وہ ان کی وفات تک ان کے عقد میں رہیں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1186
تخریج حدیث في اسناده مقال فان أبا عبيدة بن عبد الله بن زمعة مقبول حيث يتابع ، ولم يتابع اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (47090) ۔ والدارقطنی : (4 / 179 - 180)۔
حدیث نمبر: 1187
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ [ ص: 68 ] قُسَيْطٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ، وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ الرَّضَاعَةَ مِنْ قِبَلِ الرَّجُلِ لَا تُحَرِّمُ شَيْئًا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آدمی کی طرف سے رضاعت کچھ بھی حرام نہیں کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1187
تخریج حدیث اسناده حسن اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (4711) - وسعيد بن منصور (988)۔