کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: پانچ معلوم مرتبہ دودھ پینے سے (حرمت) ثابت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1179
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: نَزَلَ الْقُرْآنُ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ صُيِّرْنَ إِلَى خَمْسٍ يُحَرِّمْنَ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَّا مَنِ اسْتَكْمَلَ خَمْسَ رَضَعَاتٍ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”قرآن میں یہ بات نازل ہوئی کہ دس بار دودھ کا پینا حرمت کرتا ہے، پھر پانچ بار دودھ پینا حرمت کا سبب ہو گیا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس وہی آتا جس نے پانچ رضعات مکمل کر لی ہوتی تھیں۔“
حدیث نمبر: 1180
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ يُحَرِّمْنُ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ. فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ.
حافظ محمد فہد
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”قرآن میں نازل ہوا تھا کہ دس بار دودھ پینا حرمت کا سبب ہے، پھر یہ منسوخ ہو گیا اور (یہ حکم آیا) کہ پانچ بار دودھ پینا حرمت ثابت کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو یہ ان آیات میں سے تھا جو قرآن میں پڑھی جاتی تھیں“۔
حدیث نمبر: 1181
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ: أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرْسَلَتْ لِعَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ إِلَى أُخْتِهَا فَاطِمَةَ بِنْتِ عُمَرَ تُرْضِعُهُ عَشْرَ رَضَعَاتٍ لِيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَهُوَ صَغِيرٌ يَرْضَعُ فَفَعَلَتْ، فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرَّضَاعِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
صفیہ بنت ابی عبید سے روایت ہے انہوں نے نافع کو بتایا کہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عاصم بن عبد اللہ بن سعد کو اپنی بہن فاطمہ بنت عمر کے پاس دس بار دودھ پلانے کے لیے بھیجا تاکہ وہ بڑا ہو کر ان کے ہاں آجا سکے، اور وہ اس وقت چھوٹے دودھ پیتے بچے تھے، تو فاطمہ نے ایسے ہی کیا، بعد میں وہ ان کے ہاں آتے جاتے تھے۔