کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: ربیبہ (بیوی کی پہلے شوہر سے بیٹی) کی حرمت اور دودھ کے رشتے سے حرام ہونے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 1172
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ابْنَةِ أَبِي سُفْيَانَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَاعِلٌ مَاذَا" ؟ قَالَتْ: تَنْكِحُهَا. قَالَ: "أُخْتَكِ" ! قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "أَتُحِبِّينَ ذَلِكَ" ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ: "فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي" . قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ بِأَنَّكَ تَخْطُبُ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. قَالَ: "بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ" ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: "وَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لِابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ" .
حافظ محمد فہد
ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کو میری بہن، ابوسفیان کی بیٹی میں کوئی دلچسپی ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیا کرنے والا ہوں؟“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ اس سے نکاح کر لیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری بہن سے!“ انہوں نے کہا: ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم یہ پسند کرو گی؟“ (کہ تمہاری بہن تمہاری سوکن ہو) انہوں نے کہا: ”ہاں، میں آپ کے پاس اکیلی تو نہیں ہوں اور میں خیر و برکت میں اپنی بہن کو اپنا شریک بنانا پسند کرتی ہوں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے لیے حلال نہیں ہے“۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوسلمہ کی بیٹی؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری ربیبہ اور زیرِ پرورش نہ ہوتی تو تب بھی حلال نہ ہوتی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اس کے باپ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کے لیے پیش نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 1173
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "تُحَرِّمُ الرَّضَاعَةُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رضاعت سے بھی وہ رشتہ حرام ہو جاتا ہے جو نسب سے حرام ہیں۔“
حدیث نمبر: 1174
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُدْعَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ عَمِّكَ بِنْتِ حَمْزَةَ فَإِنَّهَا أَجْمَلُ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ، فَقَالَ: "أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ حَمْزَةَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَأَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ" .
حافظ محمد فہد
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کے لیے اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی میں کوئی رغبت نہیں، وہ قریش کی سب سے خوبصورت نوجوان لڑکی ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا آپ کو علم نہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ میرے رضاعی بھائی بھی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام کر دیے ہیں جو نسب سے حرام کیے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1175
أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنَةِ حَمْزَةَ مِثْلَ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے ایک اور سند سے نبی ﷺ سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے متعلق سفیان کی حدیث کی مثل مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1176
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَأَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا غُلَامًا، وَأَرْضَعَتِ الْأُخْرَى جَارِيَةً، فَقِيلَ لَهُ: هَلْ يَتَزَوَّجُ الْغُلَامُ الْجَارِيَةَ؟ فَقَالَ: لَا. اللِّقَاحُ وَاحِدٌ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن شرید سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ: ”ایک شخص کے پاس دو بیویاں ہیں۔ ان میں سے ایک نے کسی کے لڑکے کو دودھ پلایا، اور دوسری نے کسی اور کی لڑکی کو، تو کیا اس لڑکے اور لڑکی کا نکاح درست ہے؟“ فرمایا: ”نہیں۔ کیونکہ دونوں میں مادہ منویہ ڈالنے والا مرد تو ایک ہی ہے (جس سے دونوں عورتوں کا دودھ بنا ہے)۔“
حدیث نمبر: 1177
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى حَفْصَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَرَاهُ فُلَانًا" ، لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ فَدَخَلَ عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَعَمْ، إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ" .
حافظ محمد فہد
عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ ان کے ہاں تشریف فرما تھے کہ انہوں نے ایک آدمی کی آواز سنی جو حفصہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کر رہا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آدمی آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے“۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ فلاں آدمی ہے“ (حفصہ کے رضاعی چچا کا نام لیا)۔ تو میں نے پوچھا: ”کیا فلاں، جو ان کے رضاعی چچا تھے، اگر زندہ ہوتے تو میرے یہاں آجا سکتے تھے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جیسے خون ملنے سے حرمت ہوتی ہے ویسے ہی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1178
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي أَفْلَحُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ الرَّضَاعِ وَهِيَ أَوَّلُ مَا فِيهِ وَالسَّابِعَ وَقَوْلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جَاءَ عَمِّي أَفْلَحُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرمایا کہ: ”میرا (رضاعی) چچا افلح آیا“ اور لمبی حدیث بیان کی۔