کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: لونڈیوں اور آزاد عورتوں میں سے کن کو (نکاح میں) جمع نہیں کیا جا سکتا
حدیث نمبر: 1167
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْأُخْتَيْنِ مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ: هَلْ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، وَأَمَّا أَنَا فَلَا أُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ هَذَا، قَالَ: فَخَرَجَ مِنْ عِنْدَهُ فَلَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَوْ كَانَ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ، ثُمَّ وَجَدْتُ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ لَجَعَلْتُهُ نَكَالًا. قَالَ مَالِكٌ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ مَالِكٌ: وَبَلَغَنِي عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مِثْلُ ذَلِكَ.
حافظ محمد فہد
قبیصہ بن ذوئیب سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے دو بہنوں کے متعلق پوچھا جو ایک آدمی کی ملکیت ہوں، کیا وہ دونوں سے صحبت کر سکتا ہے؟ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک آیت نے ان دونوں کو حلال کیا ہے جبکہ دوسری آیت نے دونوں کو حرام، اور رہی میری بات تو میں یہ کام کرنا پسند نہیں کرتا“۔ قبیصہ نے کہا وہ آدمی ان کے پاس سے نکلا اور نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی سے ملا تو اس نے کہا: ”اگر مجھے کچھ بھی معاملے کا اختیار ہوتا، پھر میں کسی آدمی کو پاتا جس نے یہ کام کیا ہوتا تو میں اس کو عبرت بنا لیتا“۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ابن شہاب نے کہا میرے خیال میں وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی اسی طرح اطلاع ملی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1167
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البيهقى 7 / 163 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4156) - وعبد الرزاق (12727)، (12732) . وابن ابي شيبة (16251) ، (16258)، ومسالك فى الموطأ ، النكاح، باب ماجاء في كراهية اصابة الاختين بملك اليمين والمرأة وابنتها۔
حدیث نمبر: 1168
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ: هَلْ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَى؟ فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهُمَا جَمِيعًا.
حافظ محمد فہد
عبید اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک عورت اور اس کی بیٹی جو ایک ہی آدمی کی لونڈیاں ہوں کے متعلق سوال کیا گیا، کیا آدمی ان دونوں میں سے ایک سے وطی کرنے کے بعد دوسری سے کر سکتا ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ ان دونوں سے بیک وقت وطی کو جائز قرار دوں“۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1168
تخریج حدیث صحیح اخرجه البيهقي : 7 / 164 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4157) - والدار قطنی: 3/ 282 - ومالك في الموطا النكاح، باب ماجاء في كراهية اصابة الاختين يملك اليمين والمرأة وابنتها۔
حدیث نمبر: 1169
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْأُمِّ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ نُجِيزَهُمَا جَمِيعًا. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي: فَوَدِدْتُ أَنَّ عُمَرَ كَانَ أَشَدَّ فِي ذَلِكَ مِمَّا هُوَ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے ماں اور اس کی بیٹی جو ایک ہی شخص کی ملکیت میں ہوں، کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ ہم ان دونوں کو جائز قرار دیں“۔ عبید اللہ نے کہا کہ میرے باپ نے کہا، میں چاہتا ہوں کہ عمر رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں اس سے بھی زیادہ سخت ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1169
تخریج حدیث صحيح : اخرجه البيهقي: 7 / 164 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (4159)۔ وعبدالرزاق (12731)، (12734) - وابن ابي شيبة (16243)۔
حدیث نمبر: 1170
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُخْبِرُ: أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ جَاءَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ لِي سُرِّيَّةً أَصَبْتُهَا، وَإِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ لَهَا ابْنَةٌ جَارِيَةٌ لِي فَأَسْتَسِرُّ ابْنَتَهَا؟ فَقَالَتْ: لَا. [ ص: 58 ] قَالَ: فَإِنِّي لَا أَدَعُهَا إِلَّا أَنْ تَقُولِي: حَرَّمَهَا اللَّهُ تَعَالَى، فَقَالَتْ: لَا يَفْعَلُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِي، وَلَا أَحَدٌ أَطَاعَنِي.
حافظ محمد فہد
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن عبداللہ بن عبید اللہ بن معمر، عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ: ”میری ایک لونڈی ہے، میں اس سے صحبت کرتا ہوں، اور اس کی بیٹی بھی میری لونڈی ہے تو کیا میں اس کی بیٹی سے بھی صحبت کروں؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: ”میں اس وقت تک اسے نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ یہ نہیں کہتیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”یہ کام نہ تو میرے گھر والوں میں سے کوئی کرے گا اور نہ ہی میری بات ماننے والوں میں سے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1170
تخریج حدیث صحيح: اخرجه البيهقي: 7 / 164 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4159) - وعبدالرزاق (12731)، (12734) - وابن ابي شيبة (16243)۔
حدیث نمبر: 1171
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَجْمَعُ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
حافظ محمد فہد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1171
تخریج حدیث اخرجه البخاري، النكاح ، باب لا تنكح المرأة على عمتها (5109) - ومسلم، النكاح، باب تحريم الجمع بين المرأة وعمتها.... الخ (1408)۔