حدیث نمبر: 1151
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً [النُّورِ: 3] الْآيَةَ، قَالَ: هِيَ مَنْسُوخَةٌ نَسَخَتْهَا وَأَنْكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ [النُّورِ: 32] فَهِيَ مِنْ أَيَامَى الْمُسْلِمِينَ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اللہ کے فرمان: ”زانی مرد نکاح نہ کرے مگر زانیہ عورت سے“ (النور : 3) کی تفسیر میں مروی ہے، فرمایا: یہ آیت منسوخ ہے اور اسے (اللہ کے اس حکم) ”اور تم میں سے جو بے نکاح ہوں ان کے نکاح کر دو“ (النور : 32) نے منسوخ کیا ہے، اور یہ مسلمانوں کے بے نکاح مرد و عورت ہیں۔
حدیث نمبر: 1152
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: هِيَ مَنْسُوخَةٌ نَسَخَتْهَا وَأَنْكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ [النُّورِ: 32] فَهِيَ مِنْ أَيَامَى الْمُسْلِمِينَ، يَعْنِي قَوْلَهُ: الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً [النُّورِ: 3] الْآيَةَ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : یہ منسوخ ہے اور اسے ﴿وانكحوا الايامي منكم...﴾ نے منسوخ کیا ہے اور اس سے مراد مسلمانوں کے بے نکاح مرد و زن ہیں، یعنی اللہ کا فرمان ﴿الزاني لا ينكح إلا زانية﴾ منسوخ ہے۔
حدیث نمبر: 1153
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: فَهُوَ حَكَمٌ بَيْنَهُمَا.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن ابی یزید نے بعض اہل علم سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا: ”یہ ان دونوں کے درمیان فیصلہ کن ہے۔“
حدیث نمبر: 1154
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي بَغَايَا مِنْ بَغَايَا الْجَاهِلِيَّةِ كَانَتْ عَلَى مَنَازِلِهِمْ رَايَاتٌ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ، وَإِلَى آخِرِ الرَّابِعِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
حافظ محمد فہد
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یہ آیت ﴿الزاني لا ينكح ... ﴾ (النور : 4) جاہلیت کی ان زانی عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے گھروں پر جھنڈے گاڑ کر بدکاری کیا کرتی تھیں۔