کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: باپوں کی ولایت اور بیوہ/مطلقہ کا نکاح رد کرنا جب وہ اسے ناپسند کرے
حدیث نمبر: 1149
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ نُعَيْمًا أَنْ يُؤَامِرَ أُمَّ ابْنَتِهِ فِيهَا.
حافظ محمد فہد
ابن جریج سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نعیم کو بیٹی کے نکاح کی صورت میں اس کی ماں سے مشورہ کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 1150
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ خَنْسَاءَ ابْنَةِ خِذَامٍ: أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا، وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالثَّانِيَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
خنساء بنتِ خزام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے باپ نے ان کا نکاح کر دیا جبکہ وہ ثیبہ تھیں، انہیں یہ نکاح منظور نہیں تھا لہذا وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے اس نکاح کو باطل (فسخ) قرار دیا۔