حدیث نمبر: 1139
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ [ ص: 44 ] قَالَ: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثًا" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے۔
حدیث نمبر: 1140
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثًا، وَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر مرد اس عورت سے ہم بستری کرے تو اس پر حقِ مہر کی ادائیگی واجب ہے، کیونکہ اس نے اس کے بدلے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا۔ اگر اولیاء کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حکمران ہے۔“
حدیث نمبر: 1141
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: نَكَحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ، يُقَالُ لَهَا: بِنْتُ أَبِي ثُمَامَةَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُضَرِّسٍ، فَكَتَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْعُتْوَارِيُّ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، إِذْ هُوَ وَالِي الْمَدِينَةِ: إِنِّي وَلِيُّهَا وَإِنَّهَا نَكَحَتْ بِغَيْرِ أَمْرِي فَرَدَّهُ عُمَرُ وَقَدْ أَصَابَهَا قَالَ: فَأَيُّ امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَلَا نِكَاحَ لَهَا، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، وَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا صَدَاقُ مِثْلِهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا بِمَا قَضَى لَهَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بنی بکر بن کنانہ میں سے ایک عورت نے، جسے بنتِ ابی ثمامہ کہا جاتا تھا، عمر بن عبداللہ بن مضرس سے نکاح کیا۔ علقمہ بن علقمہ العتواری نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خط لکھا (جبکہ وہ مدینہ کے گورنر تھے) کہ میں اس عورت کا ولی ہوں اور اس نے میرے مشورے کے بغیر شادی کی۔ عمر نے اس نکاح کو فسخ کر دیا، جبکہ وہ آدمی اس سے ہم بستری کر چکا تھا۔ فرمایا: جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح نہیں ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے: ”اس کا نکاح باطل ہے۔ اور اگر مرد نے اس سے ہم بستری کی تو اس کے لیے مہرِ مثل ہے“، اس کے بدلے جو اس نے اس سے حاجت پوری کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے مطابق جو آپ نے ایسی عورت کے لیے کیا۔
حدیث نمبر: 1142
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: جَمَعَتِ الطَّرِيقُ رُفْقَةً فِيهِمُ امْرَأَةٌ ثَيِّبٌ فَوَلَّتْ رَجُلًا مِنْهُمْ أَمْرَهَا فَزَوَّجَهَا رَجُلًا، فَجَلَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّاكِحَ وَالْمُنْكِحَ وَرَدَّ نِكَاحَهَا.
حافظ محمد فہد
عکرمہ بن خالد نے بیان کیا کہ دورانِ سفر ایک قافلہ اکٹھا ہو گیا اور ان میں ایک عورت بیوہ تھی، اس نے ان میں سے ایک آدمی کو اپنا ولی بنایا اور اس نے اس کا دوسرے آدمی سے نکاح کرا دیا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح کرنے اور کروانے والے کو کوڑے لگوائے اور اس نکاح کو فسخ کر دیا۔
حدیث نمبر: 1143
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْبَدٍ: أَنَّ عُمَرَ رَدَّ نِكَاحَ امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ وَلِيٍّ.
حافظ محمد فہد
عبدالرحمن بن معبد سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے نکاح کو باطل قرار دیا جس نے ولی کے بغیر نکاح کیا۔
حدیث نمبر: 1144
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنِكَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، فَقَالَ: هَذَا نِكَاحُ السِّرِّ، فَلَا أُجِيزُهُ، وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ.
حافظ محمد فہد
ابوالزبیر نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسے نکاح کا معاملہ لایا گیا جس میں صرف ایک مرد اور ایک عورت گواہ تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ خفیہ نکاح ہے، اور میں اسے جائز قرار نہیں دیتا، اور اگر میں پہلے اسے بیان کر چکا ہوتا تو اب میں رجم کرتا۔“