حدیث نمبر: 1130
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ [الْبَقَرَةِ: 235] . أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلْمَرْأَةِ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا: إِنَّكِ عَلَيَّ لَكَرِيمَةٌ، وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا أَوْ رِزْقًا أَوْ نَحْوَ هَذَا مِنَ الْقَوْلِ.
حافظ محمد فہد
عبدالرحمن بن قاسم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارہ کنایہ سے عورتوں کو نکاح کے متعلق کہو“ (البقرہ : 235) سے متعلق فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کسی عورت کو اس کے خاوند کی وفات کی عدت کے دوران کہے: ”تو میرے لیے باعثِ عزت ہے، میں تجھ میں رغبت رکھنے والا ہوں، اللہ تعالیٰ تیری طرف خیر یا رزق لانے والے ہیں“ یا اس سے ملتی جلتی بات کہے۔
حدیث نمبر: 1131
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: "وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" . قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ أَخْبَرْتُهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ: "أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا، وَاغْتَبَطْتُ بِهِ" .
حافظ محمد فہد
فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: ”جب تیری عدت ختم ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔“ کہتی ہیں: جب میری عدت ختم ہوئی تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ معاویہ اور ابو جہم رضی اللہ عنہما نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معاویہ مفلس آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں، اور ابو جہم تو اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتارتا، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ چنانچہ میں نے ان سے نکاح کر لیا، اللہ نے اس نکاح میں اتنی خیر و خوبی دی کہ دوسری عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں۔
حدیث نمبر: 1132
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقِ زَوْجِهَا: "فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" . قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ أَخْبَرْتُهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ انْكِحِي أُسَامَةَ" . قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ قَالَ: "انْكِحِي أُسَامَةَ" . فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالثَّالِثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
فاطمہ رضی اللہ عنہا (بنتِ قیس) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ان کے خاوند کی طرف سے طلاق کی صورت میں عدت کے دوران کہا: ”جب تیری عدت پوری ہو جائے تو مجھے بتانا۔“ فرماتی ہیں: جب میری عدت پوری ہوئی تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ معاویہ اور ابو جہم رضی اللہ عنہما نے مجھے پیغامِ نکاح بھیجا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معاویہ مفلس آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں، اور ابو جہم تو اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتارتا، لہذا تو اسامہ سے نکاح کر لے۔“ فرماتی ہیں: مجھے یہ بات ناپسند لگی، آپ ﷺ نے دوبارہ کہا: ”تم اسامہ (رضی اللہ عنہ) سے نکاح کر لو۔“ پھر میں نے ان سے نکاح کر لیا، اور اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی خیر دی کہ عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں۔