کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: بیماری کی حالت میں نکاح اور مہرِ مثل کا بیان
حدیث نمبر: 1120
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ [ ص: 35 ] جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ سَأَلَ امْرَأَةً لَهُ أَنْ يُخْرِجَهَا مِنْ مِيرَاثِهَا مِنْهُ فِي مَرَضِهِ فَأَبَتْ فَقَالَ: لَأُدْخِلَنَّ عَلَيْكِ فِيهِ مَنْ يُنْقِصُ حَقَّكِ أَوْ يَضُرُّ بِهِ فَنَكَحَ ثَلَاثًا فِي مَرَضِهِ أَصْدَقَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ أَلْفَ دِينَارٍ، فَأَجَازَ ذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ. قَالَ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ: إِنْ كَانَ صَدَاقَ مِثْلِهِنَّ جَازَ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ رُدَّتِ الزِّيَادَةُ وَقَالَ فِي الْمُحَابَاةِ كَمَا قُلْتُ أَنَا فِي كِتَابِ الْوَصَايَا الَّذِي لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.
حافظ محمد فہد
عکرمہ بن خالد سے روایت ہے کہ ام حکیم کے بیٹے نے اپنی بیماری میں اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اس کے لیے اس کی میراث سے کچھ نکال دے، تو اس عورت نے انکار کر دیا، تو ام حکیم کے بیٹے نے کہا، میں تجھ پر اس میراث میں ان کو داخل کروں گا جو تیرے حق کو کم کریں گی یا اس میں نقصان دہ ثابت ہوں، لہذا انہوں نے اپنی بیماری میں تین نکاح کر لیے، اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ہزار حق مہر دیا، عبدالملک بن مروان نے اس کو جائز قرار دیا۔ سعید بن سالم کہتے ہیں اگر تو ان عورتوں کا مہر، مہر مثل ہو تو درست ہے اور اگر مثل سے زیادہ ہے تو پھر زائد رقم کو واپس کر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1120
تخریج حدیث اسناده ضعيف لعنعة ابن جريج: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (3929)۔
حدیث نمبر: 1121
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يَقُولُ: أَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أُمِّ الْحَكَمِ فِي شَكْوَاهُ أَنْ يُخْرِجَ امْرَأَةً مِنْ مِيرَاثِهَا فَأَبَتْ فَنَكَحَ عَلَيْهَا ثَلَاثَ نِسْوَةٍ وَأَصْدَقَهُنَّ أَلْفَ دِينَارٍ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ، فَأَجَازَ ذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ وَشَرَّكَ بَيْنَهُنَّ فِي الثُّمُنِ. قَالَ الرَّبِيعُ: هَذَا قَوْلُ الشَّافِعِيِّ نَصٌّ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَرَى ذَلِكَ صَدَاقَ مِثْلِهِنَّ وَلَوْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ صَدَاقِ مِثْلِهِنَّ جَازَ النِّكَاحُ، وَبَطَلَ مَا زَادَ عَلَى صَدَاقِ مِثْلِهِنَّ إِنْ مَاتَ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ فِي حُكْمِ الْوَصِيَّةِ وَالْوَصِيَّةُ لَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ.
حافظ محمد فہد
عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن امِ حکم نے اپنی بیماری میں ارادہ کیا کہ اس کی بیوی اس کی میراث سے (صدقہ وغیرہ کے لیے حصہ) نکالے، اس عورت نے انکار کر دیا، تو انہوں نے اس پر تین اور عورتوں سے نکاح کر لیا اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ہزار دینار حق مہر دیا۔ عبدالملک بن مروان نے اسے جائز قرار دے کر ان سب کو آٹھویں حصے میں حصہ دار بنا دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ مہرِ مثل تھا، اور اگر یہ مہرِ مثل سے زائد ہو تو نکاح تو تب بھی جائز ہے البتہ مہرِ مثل سے زائد رقم باطل قرار پائے گا اگر وہ اپنی اسی بیماری میں فوت ہو جائے۔ کیونکہ یہ وصیت کے حکم میں ہے اور وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1121
تخریج حدیث اسناده ضعيف لعنعة ابن جريج اخرجه البيهقي: 276/6 - وفي المعرفة السنن والآثار له (3927)۔
حدیث نمبر: 1122
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: كَانَتْ بِنْتُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَزَوَّجَهَا فَحُدِّثَ أَنَّهَا عَاقِرٌ لَا تَلِدُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ مُجَامَعَتِهَا فَمَكَثَتْ حَيَاةَ عُمَرَ وَبَعْضَ خِلَافَةِ عُثْمَانَ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ لِتَشْرَكَ نِسَاءَهُ فِي الْمِيرَاثِ وَكَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ قَرَابَةٌ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع نے بیان کیا کہ حفص بن مغیرہ کی بیٹی عبداللہ بن ابی ربیعہ کے نکاح میں تھی اور انہوں نے اسے طلاق دے دی، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے شادی کر لی۔ ان سے یہ بات بیان کی گئی کہ یہ عورت بانجھ ہے اس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو انہوں نے اس کے ساتھ صحبت سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی۔ وہ عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی اور عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے کچھ عرصہ اسی طرح رہی۔ پھر اس سے عبداللہ بن ابی ربیعہ نے دوبارہ شادی کر لی، وہ بیمار تھے تاکہ وہ اس کی بیویوں میں ان کی میراث کی حصہ دار بن سکے، اور ان کی آپس میں رشتہ داری بھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1122
تخریج حدیث اسناده ضعيف لعنة ابن جريج : اخرجه البيهقى 6 / 276 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3926)۔
حدیث نمبر: 1123
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ فِي الْإِمْلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ أَبِي رَبِيعَةَ نَكَحَ وَهُوَ مَرِيضٌ فَجَازَ ذَلِكَ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ النِّكَاحِ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن ابی ربیعہ نے بیماری میں نکاح کیا اور یہ جائز ٹھہرا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1123
تخریج حدیث اسناده ضعيف لعنعنة ابن جريج: اخرجه البيهقى فى المعرفة السنن والآثار (3928)- وعبدالرزاق (10669)۔