کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 1105
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ: أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَكَذَّبُوهَا، وَقَالُوا: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ! ، حَتَّى أَنْشَأَ إِنْسَانٌ مِنْهُمُ الْحَجَّ، فَقَالُوا: أَتَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ؟ فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَتْ: فَصَدَّقُونِي وَازْدَدْتُ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنِي فَقُلْتُ لَهُ: مَا مِثْلِي نُكِحَ. أَمَّا أَنَا فَلَا وَلَدَ لِي وَأَنَا غَيُورٌ ذَاتُ عِيَالٍ، قَالَ: أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَأْتِيهَا وَيَقُولُ: "أَيْنَ زُنَابُ" ؟ حَتَّى جَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ [ ص: 27 ] فَاخْتَلَجَهَا، وَقَالَ: هَذِهِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ تُرْضِعُهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَيْنَ زُنَابُ" ؟ فَقَالَتْ قُرَيْبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ وَوَافَقَهَا عِنْدَهَا: أَخَذَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ" . قَالَتْ: فَقُمْتُ فَوَضَعْتُ ثِفَالِي وَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرٍّ وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُهُ أَوْ عَصَرْتُهُ، قَالَتْ: فَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْبَحَ فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ: "إِنَّ لَكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً، فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ أُسَبِّعْ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي" .
حافظ محمد فہد
ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ جب وہ مدینہ آئیں تو انہوں نے مدینہ والوں کو بتایا کہ وہ ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں تو انہوں نے ان کی بات نہ مانی اور کہا: ”اجنبی لوگ کتنے جھوٹے ہوتے ہیں“۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک انسان حج کو گیا تو انہوں نے کہا: کیا تو اپنے گھر والوں کے لیے کوئی پیغام لکھنا چاہتی ہے؟ انہوں نے ان کو پیغام لکھ کر دے دیا، جب وہ مدینہ واپس آئے تو انہوں نے میری تصدیق کی اور میری پہلے سے زیادہ عزت کرنے لگے۔ فرماتی ہیں: جب میں حلال ہوئی (عدت مکمل ہوئی) تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور مجھے منگنی کا پیغام دیا۔ میں نے آپ ﷺ سے کہا: میرے جیسی سے کون نکاح کرے گا، اب میرے ہاں (مزید) اولاد نہ ہوگی، اور میں غیرت مند اور صاحبِ عیال ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھ سے (عمر میں) بڑا ہوں، رہی غیرت تو اللہ اس کو دور فرما دیں گے، اور اولاد اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے لیے ہے“۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے عقد کر لیا اور آپ ﷺ ان کے پاس آتے تو فرماتے: ”زناب کہاں ہے؟“ یہاں تک کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اس کو جلدی سے (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی گود سے) چھین لیا اور کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کو روکتی ہے، جبکہ وہ (ام سلمہ) اسے دودھ پلاتی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”زناب کہاں ہے؟“ قریبہ بنت ابوامیہ، جو اس وقت وہاں موجود تھیں، انہوں نے کہا: اسے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے لے لیا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں رات کو تمہارے پاس آؤں گا“۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں اٹھی اور چکی کے نیچے بچھانے والے چمڑے کو بچھایا، اور گھڑے سے جو کے دانے نکالے، پھر چربی نکالی اور اس کو ان پر نچوڑ دیا (سالن تیار کیا)۔ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے رات گزاری اور صبح کی۔ جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تیرے لیے تیرے گھر والوں کے ہاں عزت ہے، اگر تو چاہے تو میں تیرے لیے سات دن مقرر کرتا ہوں، اور اگر میں نے سات دن مقرر کیے تو اپنی دوسری عورتوں کے لیے بھی سات کروں گا“۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1105
تخریج حدیث أخرجه البيهقي: 301/7 - وفى المعرفة السنن والآثار لــه (4380) - واحمد : 6/ 295 ، 307، 308۔ والنسائي في الكبرى (8926) - وصححه الحاكم : 4 / 16، 17 ، وابن حبان۔
حدیث نمبر: 1106
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ [ ص: 28 ] عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا: "لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ، وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ" . قَالَتْ: ثَلِّثْ.
حافظ محمد فہد
عبد الملک بن ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، اور ان کے ہاں صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے انہیں کہا: ”تیری وجہ سے تیرے گھر والوں پر کوئی رسوائی نہیں، اگر تو چاہے تو میں تیرے پاس سات دن گزاروں، اور سات ہی ان کے پاس، اور اگر تو چاہے تو تیرے پاس تین دن گزاروں گا پھر باری مقرر کروں گا“۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”آپ تین دن گزاریں“۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1106
تخریج حدیث اخرجه مسلم ،الرضاع، باب قدر ما تستحقه البكر والثيب عن اقامة الزوج عندها عقب الزفاف (1460)۔
حدیث نمبر: 1107
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: لِلْبِكْرِ سَبْعٌ، وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ.
حافظ محمد فہد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کنواری کے لیے (شادی کے بعد خاوند کے رات گزارنے کے) سات دن ہیں اور بیوہ سے شادی کی صورت میں تین دن ہیں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1107
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 302/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4381) - (4382)۔
حدیث نمبر: 1108
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهَا فَسَاقَ نِكَاحَهَا وَبِنَاءَهُ بِهَا وَقَوْلَهُ لَهَا: "إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ" . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْخُلْعِ وَالنُّشُوزِ، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
حافظ محمد فہد
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے منگنی کی، پھر اپنے نکاح اور آپ ﷺ کے ان کے پاس رات گزارنے کی بات بیان کی اور آپ ﷺ کی اس بات کو بھی جو آپ ﷺ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہی کہ اگر تو چاہے تو میں تیرے ہاں سات دن ٹھہروں گا اور سات ہی ان (دوسری بیویوں) کے ہاں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب النكاح / حدیث: 1108
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم (1105)۔