حدیث نمبر: 1100
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَجْلَانَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ" .
حافظ محمد فہد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غلام کے لیے (مالک کے ذمہ) معروف طریقے کے مطابق کھانا اور لباس ہے، اور اس سے اتنا ہی کام لیا جائے جس کی اسے طاقت ہو۔“
حدیث نمبر: 1101
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ لِلْمَمْلُوكِينَ: أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ.
حافظ محمد فہد
عتبہ بن ابی لہب سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو غلاموں کے متعلق فرماتے سنا: ”ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور انہیں وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔“
حدیث نمبر: 1102
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيَدْعُهُ فَلْيَجْلِسْ فَإِنْ أَبَى فَلْيُرَوِّغْ لَهُ لُقْمَةً فَلْيُنَاوِلْهُ إِيَّاهَا أَوْ يُعْطِهِ إِيَّاهَا" أَوْ كَلِمَةً هَذَا مَعْنَاهَا. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْقُرْعَةِ وَالنَّفَقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ وَهِيَ جَمِيعُ مَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا خادم اسے کھانا پکانے کی گرمی اور دھوئیں سے بچائے تو کھاتے وقت اسے بھی اپنے ہمراہ بٹھا لے۔ اگر یہ نہ ہو سکے تو اس کھانے سے ایک لذیذ نوالہ اسے دے دے یا اسے عطا کر دے۔“ یا اس معنی کا کلمہ کہا (یہ راوی کا شک ہے)۔