حدیث نمبر: 1083
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ هِشَامٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ لَهُ ثَلَاثَةً: ابْنَيْنِ لِأُمٍّ، وَرَجُلًا لِعِلَّةٍ فَهَلَكَ أَحَدُ اللَّذَيْنِ لِأُمٍّ، وَتَرَكَ مَالًا وَمَوَالِيَ، فَوَرِثَهُ أَخُوهُ الَّذِي لِأُمِّهِ وَلِأَبِيهِ مَالَهُ وَوَلَاءَ مَوَالِيهِ ثُمَّ هَلَكَ الَّذِي وَرِثَ الْمَالَ وَوَلَاءَ الْمَوَالِي وَتَرَكَ ابْنَهُ وَأَخَاهُ لِأَبِيهِ، فَقَالَ ابْنُهُ: قَدْ أَحْرَزْتُ مَا كَانَ أَبِي أَحْرَزَ مِنَ الْمَالِ وَوَلَاءَ الْمَوَالِي، وَقَالَ أَخُوهُ: لَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّمَا أَحْرَزْتُ الْمَالَ فَأَمَّا وَلَاءُ الْمَوَالِي فَلَا، أَرَأَيْتَ لَوْ هَلَكَ أَخِي الْيَوْمَ أَلَسْتُ أَرِثُهُ أَنَا؟ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَضَى لِأَخِيهِ بِوَلَاءِ الْمَوَالِي. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
حافظ محمد فہد
ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے بیان کیا کہ عاص بن ہشام فوت ہو گیا تو اس نے تین بیٹے چھوڑے: دو سگے بھائی اور ایک سوتیلا (جس کی ماں اور تھی)۔ سگے بھائیوں میں سے ایک فوت ہوا تو اس نے ترکہ میں مال اور آزاد کردہ غلام چھوڑے۔ اس کا وارث سگا بھائی بنا، اس کے مال کا اور اس کے آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا۔ پھر مال اور غلاموں کی ولاء کا وارث بننے والا بھی فوت ہو گیا، تو اس نے وارثوں میں ایک بیٹا اور ایک سوتیلا بھائی چھوڑا۔ تو اس کے بیٹے نے کہا: ”میں مال اور آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا وارث ہوں جو میرے باپ نے حاصل کی تھی۔“ اور اس مرنے والے کے بھائی نے کہا: ”مسئلہ اس طرح نہیں ہے، کیونکہ تو نے مال تو وراثت سے حاصل کیا ہے لیکن غلاموں کی نسبت ولاء نہیں، تیرا کیا خیال ہے کہ اگر آج میرا بھائی فوت ہوتا تو کیا میں اس کا وارث نہ ہوتا؟“ اب یہ دونوں جھگڑا لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا فیصلہ بھائی کے حق میں کیا۔