کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: ولاء (وراثت کا حق) اسی کا ہے جس نے آزاد کیا
حدیث نمبر: 1074
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ [ ص: 12 ] عَدَدْتُهَا، وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُمْ ذَلِكَ فَأَبَوْا عَلَيْهَا فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" . فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى [ ص: 13 ] عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئی اور اس نے کہا: ”میں نے اپنے آقاؤں سے نو اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ قسط ادا کرنی ہے، لہذا آپ میری مدد کریں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: ”اگر تیرے آقا یہ چاہتے ہیں کہ میں یہ مال ان کو دے دوں تو میں دینے کے لیے تیار ہوں، البتہ تیری آزادی کی نسبت میری طرف ہوگی۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے آقاؤں کے پاس گئیں اور ان سے یہ بات کہی تو انہوں نے اس بات کا انکار کر دیا۔ وہ اپنے آقاؤں کے پاس سے واپس آئیں تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے، اس نے کہا: ”میں نے ان کے سامنے یہ بات رکھی تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا مگر یہ کہ ولاء ان کے لیے ہو۔“ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ نے سنی تو آپ ﷺ نے اس سے ساری بات پوچھی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو بتایا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا: ”اس کو خرید لو اور ان کے لیے ولاء کی شرط لگا دو کیونکہ ولاء تو اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو آزاد کرے۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا: ”کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں؟ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ زیادہ سچا اور اس کی شرط زیادہ مضبوط ہے اور بے شک ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1074
تخریج حدیث اخرجه البخاري، البيوع، باب اذا اشترط في البيع شروطا لا تحل (2168)۔ مسلم، العتق ، باب بيان أن الولاء عن أعتق (1504)۔
حدیث نمبر: 1075
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِمِثْلِهِ.
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے اسی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1075
تخریج حدیث اخرجه البخاري، الصلاة، باب ذكر البيع والشراء على المنبر في المسجد (456)۔
حدیث نمبر: 1076
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1076
تخریج حدیث انظر الحديث المطابق برقم (1064)۔
حدیث نمبر: 1077
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا. فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ انہوں نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے آقاؤں نے کہا: ”ہم اس شرط پر آپ کو بیچتے ہیں کہ اس کی ولاء ہمارے لیے ہو۔“ تو انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے یہ بات (اسے آزاد کرنے سے) نہ روک دے، کیونکہ ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1077
تخریج حدیث اخرجه البخاري، البيوع، باب اذا اشترط في البيع شروطا لا تحل (2169) ومسلم، العتق ، باب بيان أن الولاء لمن اعتق (1504)۔
حدیث نمبر: 1078
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ لَمْ يَقُلْ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَذَلِكَ مُرْسَلٌ.
حافظ محمد فہد
یحییٰ بن سعید نے عمرہ کے واسطہ سے (سیدہ) عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے کے بغیر مرسل بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1078
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم (1075)۔
حدیث نمبر: 1079
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكَ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَتْ: إِنِّي عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" . فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئی اور اس نے کہا: ”میں نے اپنے آقاؤں سے نو اوقیہ چاندی، ہر سال ایک اوقیہ کی ادائیگی کرنے پر مکاتبت کی ہے، لہذا آپ میری مدد کریں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: ”اگر تیرے آقا چاہیں تو میں یہ مال ان کو دینے کے لیے تیار ہوں، البتہ تیری ولاء میرے لیے ہوگی۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے آقاؤں کے پاس گئیں (پھر واپس آئیں) تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے، اس نے آکر کہا: ”میں نے یہ بات ان کے سامنے رکھی تو انہوں نے انکار کر دیا مگر یہ کہ ولاء کی نسبت ان کی طرف ہو۔“ یہ بات رسول اللہ ﷺ نے سنی تو آپ ﷺ نے اس سے دریافت کیا، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو ساری بات بتلائی۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے لے لو اور ولاء کی شرط عائد کر لو، کیونکہ ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس طرح کیا، پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر فرمایا: ”کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی بنیاد اللہ کی کتاب میں نہیں، جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ زیادہ سچا اور اس کی شرط زیادہ مضبوط ہے اور بے شک ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1079
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم (1974)۔
حدیث نمبر: 1080
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے آقا نے کہا: ”ہم اس شرط پر اسے آپ کو بیچتے ہیں کہ اس کی ولاء کی نسبت ہماری طرف ہو۔“ جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے یہ بات (اسے آزاد کرنے سے) نہ روکے اور بے شک ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1080
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم (1077)۔
حدیث نمبر: 1081
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ [ ص: 15 ] لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا. قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَالسَّابِعَ وَالثَّامِنَ مِنْ كِتَابِ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ وَهُمَا أَوَّلُ مَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد
عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا مدد طلب کرنے کے لیے آئیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تیرے آقا یہ پسند کرتے ہیں کہ میں تیری قیمت انہیں یکمشت دے کر تجھے آزاد کر دوں تو میں ایسا کرتی ہوں۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات اپنے آقا سے کہی تو انہوں نے کہا: ”نہیں، مگر یہ کہ تیری ولاء ہمارے لیے ہو۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یحییٰ نے کہا: عمرہ کا خیال ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے یہ بات (اسے آزاد کرنے سے) نہ روکے۔ تو اسے خرید کر آزاد کر دے، بے شک ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1081
تخریج حدیث اخرجه البخارى المكاتب باب بيع المكاتب اذا رضي (2564)۔