کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: اس شخص کا بیان جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا
حدیث نمبر: 1070
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، وَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، وَأُعْطِيَ شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کے موافق ہو، اس پر عدل کے ساتھ قیمت لگائی جائے۔ اور تمام شریکوں کو ان کے حصے کی قیمت (اسی کے مال سے) دے کر غلام کو اس کی طرف سے آزاد کر دیا جائے گا، ورنہ غلام کا جو حصہ آزاد ہو چکا وہ ہو چکا۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1070
تخریج حدیث اخرجه البخارى العتق باب اذا اعتق عبدًا بين اثنين أو امة بين الشركاء (2522)، 2523- ومسلم، العتق ، باب من اعتق شر كاله في عبد (1501)۔
حدیث نمبر: 1071
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا فَإِنَّهُ يَقُومُ عَلَيْهِ بِأَعْلَى الْقِيمَةِ أَوْ قِيمَةِ الْعَدْلِ لَيْسَتْ بِوَكْسٍ وَلَا شَطَطٍ ثُمَّ يَغْرَمُ لِهَذَا حِصَّتَهُ" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو غلام دو حصہ داروں کے درمیان مشترک ہو، اور ان دونوں میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا اگر آزاد کرنے والا مالدار ہے تو اس کی اعلیٰ قیمت یا انصاف والی قیمت لگائی جائے گی، جو نہ کم ہو اور نہ ہی زیادہ پھر اس حصے کا اس سے مال لیا جائے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1071
تخریج حدیث اخرجه البخاري العتق ، باب اذا اعتق عبدا بين اثنين أو امة بين الشركاء (2521) ومسلم، الايمان، باب من أعتق شركا له فى عبد (1501 - بعد 1667)۔