کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: اولاد میں سے کسی ایک کو کچھ دینے اور دوسروں کو نہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1057
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ أَوْ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يُحَدِّثَانِهِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا" ؟ فَقَالَ: لَا. فَقَالَ [ ص: 303 ] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَارْجِعْهُ" . قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: كَانَ عِنْدَ أَصْحَابِنَا كُلِّهِمْ: مَالِكٌ فَلِذَلِكَ جَعَلْتُهُ بِالشَّكِّ. أَخْرَجَهُ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے اور کہا: ”میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا ایک غلام بطور ہدیہ دیا ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا: ”کیا ایسا ہی غلام اپنے دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر (اس سے بھی) واپس لے لو۔“ ابو العباس نے بیان کیا کہ ہمارے تمام ساتھیوں کے پاس یہ روایت امام مالک رحمہ اللہ کے واسطے سے ہے اس لیے میں نے اس کو شک سے بیان کر دیا ہے۔