حدیث نمبر: 1054
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَحُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ: إِنِّي وَهَبْتُ لِابْنِي نَاقَةً حَيَاتَهُ، وَإِنَّهَا تَنَاتَجَتْ إِبِلًا. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: هِيَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ. فَقَالَ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِهَا، فَقَالَ: ذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا.
حافظ محمد فہد
حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ اہل بادیہ میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا، میں نے اپنے بیٹے کو اونٹنی اس کی زندگی تک ہبہ کی تھی، اور اس نے کثرت سے اونٹ جنے۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وہ اونٹنی اسی کی ہے زندہ رہے یا مر جائے۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں نے اس پر وہ صدقہ کی تھی۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر یہ بات ہے تو پھر تو کسی صورت نہیں لے سکتا۔“
حدیث نمبر: 1055
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ أَصْبَتْ وَاضْطَرَبَتْ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے حبیب بن ابی ثابت کے واسطہ سے اسی طرح مروی ہے مگر اس میں انہوں نے یہ الفاظ زیادہ کہے، کہ اس نے بچے جنے اور وہ بے قرار ہو رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 1056
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَابْنُ أَبِي نَجِيِحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ بَعْضَ بَنِيَّ نَاقَةً حَيَاتَهُ. قَالَ عَمْرٌو فِي الْحَدِيثِ: وَإِنَّهَا تَنَاتَجَتْ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ فِي حَدِيثِهِ: وَإِنَّهَا أَضْنَتْ وَاضْطَرَبَتْ، فَقَالَ: هِيَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ، قَالَ: فَإِنِّي تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ.
حافظ محمد فہد
حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا: ”میں نے اپنے ایک بیٹے کو اونٹنی اس کی زندگی تک کے لیے دی۔“ عمرو نے حدیث میں کہا: ”اور اس نے کثرت سے بچے جنے،“ اور ابن ابی نجیح نے اپنی حدیث میں کہا: ”بلکہ اس کے بہت سے بچے ہو گئے اور وہ بے قرار ہو رہے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وہ اونٹنی اسی کی ہے، زندہ رہے یا مر جائے۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں نے تو وہ اس پر صدقہ کر دی تھی۔“ فرمایا: ”پھر تو تم اسے کسی صورت واپس نہیں لے سکتے۔“