حدیث نمبر: 1049
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَقْتَسِمُونَ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ أَهْلِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي، فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے وارث (میرے ترکہ میں سے) ایک دینار بھی تقسیم نہ کریں، میری بیویوں کے خرچہ اور میری جائداد کا اہتمام کرنے والے کے خرچہ کے بعد جو بچ جائے وہ صدقہ ہے۔“
حدیث نمبر: 1050
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے اسی سابقہ حدیث کے ہم معنی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1051
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ قَالَ: وَسَمِعْتُ مَرْوَانَ بْنَ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ [ ص: 300 ] عَطَاءٍ الْمَدَنِيِّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِعَبْدٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدْ وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَهُوَ لَكَ بِمِيرَاثِكَ" .
حافظ محمد فہد
بریدہ الاسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ میں نے اپنی ماں پر ایک غلام کا صدقہ کیا اور اب وہ فوت ہو چکی ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا صدقہ واجب ہو چکا اور وہ تیرے لیے تیری میراث ہے۔“
حدیث نمبر: 1052
أَخْبَرَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّهِ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقَتْ بِمَالِهَا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَصَدَّقَ عَلَيْهِمْ فَأَدْخَلَ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن حسن بن حسین نبی علیہ السلام کے کئی ایک گھر والوں سے روایت ہے محمد بن علی کہتے ہیں میرے خیال سے انہوں نے زید بن علی کا کہا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مال کو بنو ہاشم اور بنو مطلب پر صدقہ کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے ان پر صدقہ تقسیم کر دیا اور ان کے ساتھ اوروں کو بھی دیا۔
حدیث نمبر: 1053
أَخْبَرَنِيهِ مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ خُبْزًا وَأُدْمَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: "أَلَمْ أَرَ بُرْمَةَ لَحْمٍ" ؟ فَقَالَتْ: ذَلِكَ شَيْءٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ. فَقَالَ: "هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ" . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ قَسْمِ الْفَيْءِ، وَإِلَى آخِرِ الرَّابِعِ مِنْ كِتَابِ الرَّضَاعِ آخِرُهَا آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ تشریف لائے تو روٹی اور گھر کا سالن آپ کے سامنے رکھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں نے (چولہے پر) ہانڈی گوشت کی نہیں دیکھی؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ چیز بریرہ پر صدقہ کی گئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے تحفہ ہے۔“