کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: اللہ کی فرمانبرداری یا نافرمانی کی نذر ماننے والے کا بیان
حدیث نمبر: 1043
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: "مَا لَهُ" ؟ قَالُوا: نَذَرَ أَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَقْعُدَ وَلَا يُكَلِّمَ أَحَدًا وَيَصُومَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَظِلَّ، وَيَقْعُدَ وَأَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ، وَيُتِمَّ صَوْمَهُ وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِكَفَّارَةٍ.
حافظ محمد فہد
طاؤوس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ابو اسرائیل کے پاس سے گزرے اور وہ سورج کی دھوپ میں کھڑا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اسے کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا، اس نے نذر مانی ہے کہ نہ سائے میں جائے گا، نہ بیٹھے گا، اور نہ ہی کسی سے بات چیت کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ تو نبی ﷺ نے اسے سایہ اختیار کرنے، بیٹھنے اور لوگوں سے بات چیت کرنے اور روزہ مکمل کرنے کا حکم دیا، اور اسے کفارہ کا حکم نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 1044
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی تو وہ اللہ کی اطاعت کرے اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔“