حدیث نمبر: 1042
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أُذَيْنَةَ، قَالَ: [ ص: 295 ] خَرَجْتُ مَعَ جَدَّةٍ لِي عَلَيْهَا مَشْيٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ تَعَالَى، حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَجَزَتْ، فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ ثُمَّ لِتَمْشِ ثُمَّ حَيْثُ عَجَزَتْ. قَالَ مَالِكٌ: وَعَلَيْهَا هَدْيٌ. أَخْرَجَهُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
حافظ محمد فہد
عروہ بن اذینہ نے بیان کیا کہ میں اپنی دادی کے ساتھ (حج کے لیے) نکلا انہوں نے بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی تھی۔ حتیٰ کہ راستے میں وہ (پیدل چلنے سے) عاجز آگئیں۔ تو میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مسئلہ پوچھا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”انہیں سوار ہونے کا کہو، پھر وہ چلیں پھر جہاں عاجز آجائیں، تو سوار ہو جائیں۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اس پر قربانی واجب ہے۔“