کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: ذبح سے پہلے بال منڈوانے اور رمی سے پہلے قربانی کرنے (ترتیب کی تبدیلی) کا بیان
حدیث نمبر: 1018
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي [ ص: 282 ] حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ: "اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ" . فَجَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ ضَجِرْتُ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: "ارْمِ وَلَا حَرَجَ" . قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: "افْعَلْ وَلَا حَرَجَ" . أَخْرَجَهُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ لوگوں کے لیے منیٰ کے مقام پر حجۃ الوداع کے وقت کھڑے تھے اور لوگ آپ ﷺ سے مسائل معلوم کیے جا رہے تھے۔ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھ کو معلوم نہیں تھا اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب قربانی کر لو، کچھ حرج نہیں ہے۔“ ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے رمی جمار سے پہلے ہی قربانی کر دی اور مجھے خیال نہ رہا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب رمی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ عبداللہ بن عمرو بن العاص نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے جس چیز کے آگے پیچھے کرنے کے متعلق سوال ہوا، آپ ﷺ نے یہی فرمایا: ”اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“