کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: اس حاجی کا بیان جس نے عید کی رات پائی اور فجر طلوع ہونے سے پہلے عرفات کے پہاڑوں پر وقوف کیا
حدیث نمبر: 993
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ النَّحْرِ مِنَ الْحَاجِّ فَوَقَفَ بِجِبَالِ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكْ عَرَفَةَ فَيَقِفُ بِهَا قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ، فَلْيَأْتِ الْبَيْتَ فَلْيَطُفْ بِهِ سَبْعًا وَلْيَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، ثُمَّ لِيَحْلِقْ أَوْ يُقَصِّرْ إِنْ شَاءَ، وَإِنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَنْحَرْهُ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ وَسَعْيِهِ فَلْيَحْلِقْ أَوْ يُقَصِّرْ، ثُمَّ لِيَرْجِعْ إِلَى أَهْلِهِ، فَإِنْ أَدْرَكَهُ الْحَجُّ قَابِلًا فَلْيَحْجُجْ إِنِ اسْتَطَاعَ وَلْيُهْدِ. فَإِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا، جس حج کرنے والے نے قربانی کی رات عرفہ کے پہاڑوں میں ٹھہرے ہوئے طلوع فجر سے پہلے پالی تو اس نے حج پالیا، اور جس نے عرفہ کو نہ پایا، تو وہ طلوع فجر سے پہلے تک وہاں ٹھہرا رہا تو اس کا حج فوت ہوگیا۔ اسے چاہیے کہ وہ بیت اللہ آئے اس کے سات چکر کاٹے اور صفا مروہ کی سات چکروں میں سعی کرے پھر اگر چاہے تو بال منڈوادے اگر چاہے تو کتروا دے۔ اور اگر اس کے پاس قربانی ہے تو بال مونڈنے سے پہلے اسے نحر کرے۔ اور جب طواف اور سعی سے فارغ ہو جائے تو بال منڈوائے یا کتروائے۔ پھر اپنے گھر لوٹ آئے۔ اگر آئندہ سال حج پالے تو طاقت ہے تو حج کرے اور قربانی بھی، اگر قربانی نہیں پاتا تو اس کے بدلے میں تین روزے حج کے دنوں میں اور سات گھر آکر رکھے۔
حدیث نمبر: 994
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ خَرَجَ حَاجًّا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَادِيَةِ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ أَضَلَّ رَوَاحِلَهُ، وَأَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: اصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ، ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ، فَإِذَا أَدْرَكْتَ الْحَجَّ قَابِلًا حُجَّ وَأَهْدِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ.
حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ حج کے لیے نکلے تو مکہ کے راستے میں مقام بادیہ پر ان کا اونٹ گم ہو گیا۔ وہ قربانی والے دن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے یہ بات بیان کی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا، تم اس طرح کرو جس طرح عمرہ کرنے والے کرتے ہیں پھر احرام کھول دو۔ پھر جب آئندہ سال حج کو پاؤ تو حج کرو اور جو ہدی سے میسر ہو قربانی کرو۔
حدیث نمبر: 995
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ هَبَّارَ بْنَ الْأَسْوَدِ جَاءَ وَعُمَرُ يَنْحَرُ بَكْرَةً. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہبار بن اسود آئے اور عمر رضی اللہ عنہ اونٹنی نحر کر رہے تھے۔