حدیث نمبر: 979
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى فِي عُمَرِهِ كُلِّهِنَّ الْأَرْبَعِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، إِلَّا أَنَّهُمْ رَدُّوهُ فِي الْأُولَى وَالرَّابِعَةِ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ.
حافظ محمد فہد
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے تمام چار عمروں میں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، مگر یہ کہ انہوں نے آپ کو پہلے اور چوتھے میں حدیبیہ سے واپس موڑ دیا۔
حدیث نمبر: 980
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَعَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَجِّهِ عَامَ حَجَّ إِذْ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَالْخُلَفَاءُ هَلُمَّ جَرًّا يَسْعَوْنَ كَذَلِكَ.
حافظ محمد فہد
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے فرمایا: ”جب رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حج کے لیے بھیجا تو انہوں نے سعی کی، پھر اپنے دورِ خلافت میں بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد آنے والے خلفاء نے اسی طرح آگے تمام خلفاء بھی سعی کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 981
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُؤَمَّلٍ الْعَائِذِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ، [ ص: 264 ] عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي بِنْتُ أَبِي تَجْرَاةَ، أَحَدُ نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ دَارَ أَبِي آلِ حُسَيْنٍ نَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَرَأَيْتُهُ يَسْعَى، وَإِنَّ مِئْزَرَهُ لَيَدُورُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ حَتَّى لَأَقُولُ: إِنِّي لَأَرَى رُكْبَتَيْهِ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: اسْعَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ. قَرَأَ الرَّبِيعُ: حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ مُخْتَصَرِ الْحَجِّ الْكَبِيرِ.
حافظ محمد فہد
صفیہ بنت شیبہ بیان کرتی ہیں: ”مجھے بنی عبدالدار کی ایک عورت ابی تجراۃ کی بیٹی نے بتایا، کہا کہ میں قریش کی عورتوں کے ساتھ ابی آلِ حسین کے گھر آئی تو ہم رسول اللہ ﷺ کو صفا مروہ کی سعی کرتے ہوئے دیکھ رہی تھیں، میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ سعی کر رہے تھے اور آپ ﷺ کا تہبند سعی کی شدت کی وجہ سے گھوم رہا تھا حتیٰ کہ میں کہتی ہوں کہ میں نے آپ کے گھٹنے دیکھے، اور میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: سعی کرو! بے شک اللہ نے تم پر سعی فرض کر دی ہے۔“