کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: حطیم کے باہر سے طواف کرنا اور اس بات کا بیان کہ حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 966
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ طَاوُسٍ، فِيمَا أَحْسَبُ، أَنَّهُ قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: الْحَجَرُ مِنَ الْبَيْتِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ [الْحَجِّ: 29] . وَقَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”حجر (یعنی حطیم) بیت اللہ کا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور وہ اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں۔“ (الحج: 29) اور رسول اللہ ﷺ نے حجر (حطیم) کے پیچھے سے طواف کیا۔“
حدیث نمبر: 967
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أُخْبِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَلَمْ تَرَيْ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ قَالَ: "لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكَ بِالْكُفْرِ لَرَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ" . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يَتِمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے معلوم ہے کہ جب تیری قوم نے کعبہ کی تعمیر کی تو بنیادِ ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ دیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اس کو دوبارہ بنیادِ ابراہیم علیہ السلام پر کیوں نہیں بنا دیتے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری قوم کا زمانہ کفر سے بالکل نزدیک نہ ہوتا تو میں اس کی اصل بنیاد پر لے آتا۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے (اور یقیناً عائشہ رضی اللہ عنہا نے سنا ہے) تو میں سمجھتا ہوں یہی وجہ ہوگی کہ رسول اللہ ﷺ حطیم سے متصل دو دیواروں کے کونوں کو نہیں چومتے تھے کیونکہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر پورا نہ ہوا تھا۔“
حدیث نمبر: 968
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: [ ص: 260 ] أَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَجِئْتُ مَعَهُ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ فِي الْحِجْرِ، فَسَأَلَهُ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا النُّطْفَةُ فَمِنْ فُلَانٍ، وَأَمَّا الْوَلَدُ فَعَلَى فِرَاشِ فُلَانٍ، فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ. فَلَمَّا وَلَّى الشَّيْخُ دَعَاهُ عُمَرُ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عَنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ فَقَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَقَوَّتْ لِبِنَاءِ الْبَيْتِ فَعَجِزُوا، فَتَرَكُوا بَعْضَهَا فِي الْحِجْرِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: صَدَقْتَ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
ابو یزید نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بنو زہرہ کے ایک بوڑھے کی طرف آدمی بھیجا، تو میں بھی اس کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ حطیم میں تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے جاہلیت کی اولاد کے بارے میں سوال کیا تو اس بوڑھے نے کہا: ”نطفہ کسی کا ہوتا اور بچہ کسی اور کے بستر پر پیدا ہوتا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو نے سچ کہا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ دیا کہ بچہ بستر والے کا ہے۔“ جب وہ بوڑھا واپس مڑا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بلایا اور پوچھا کہ: ”مجھے بیت اللہ کی تعمیر کے متعلق بتاؤ؟“ اس نے کہا: ”قریش نے کعبہ کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کیا لیکن وہ عاجز آگئے تو انہوں نے اس کے بعض حصے کو حطیم میں چھوڑ دیا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”آپ نے صحیح کہا۔“