حدیث نمبر: 910
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ: الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ .
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جن کو مارنے میں محرم پر کوئی گناہ نہیں: کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“
حدیث نمبر: 911
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْمِي غُرَابًا بِالْبَيْدَاءِ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
حافظ محمد فہد
ابنِ ابی عمار سے روایت ہے فرمایا: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ بیداء مقام پر احرام کی حالت میں کوے کو تیر سے مارتے تھے۔
حدیث نمبر: 912
وَعَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَدِيرِ: أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي طِينٍ بِالسُّقْيَا، وَهُوَ مُحْرِمٌ.
حافظ محمد فہد
ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سقیا مقام پر حالتِ احرام میں دیکھا کہ وہ اپنے اونٹ سے چیچڑیوں کو نکال کر مٹی میں ڈال رہے تھے۔
حدیث نمبر: 913
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَخَذْتُ قَمْلَةً فَأَلْقَيْتُهَا ثُمَّ طَلَبْتُهَا فَلَمْ أَجِدْهَا. فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْكَ ضَالَّةٌ لَا تُبْتَغَى.
حافظ محمد فہد
میمون بن مہران نے بیان کیا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک آدمی نے ان سے دریافت کیا کہ میں نے جوں پکڑ کر گرا دی پھر اسے تلاش کیا لیکن نہ ملی، تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ایسی گمشدہ ہے جس کی تلاش (کی ضرورت) نہیں۔“
حدیث نمبر: 914
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَجُلٌ لَمْ أَرَ رَجُلًا أَطْوَلَ شَعَرًا مِنْهُ. فَقَالَ: أَحْرَمْتُ وَعَلَيَّ هَذَا الشَّعَرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ. اشْتَمَلَ عَلَى مَا دُونَ الْأُذُنَيْنِ مِنْهُ. قَالَ: قَبَّلْتُ امْرَأَةً لَيْسَتْ بِامْرَأَتِي. قَالَ: زَنَى فُوكَ. قَالَ: رَأَيْتُ قَمْلَةً فَطَرَحْتُهَا. قَالَ: تِلْكَ الضَّالَّةُ لَا تُبْتَغَى. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ مُخْتَصَرِ الْحَجِّ الْكَبِيرِ.
حافظ محمد فہد
میمون بن مہران سے روایت ہے فرمایا، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آکر بیٹھ گیا، میں نے اس سے لمبے بالوں والا آدمی نہیں دیکھا، اس نے کہا میں نے احرام باندھا ہے جبکہ مجھ پر یہ بال ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کانوں سے اوپر والے بالوں کو لپیٹ لے۔ اس آدمی نے پھر کہا، میں نے اپنی بیوی کے علاوہ ایک اور عورت کو بوسہ دیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیرے منہ نے زنا کیا“، اس آدمی نے پھر کہا میں نے ایک جوں دیکھی اور اسے پھینک دیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ایسی گمشدہ چیز ہے جس کی تلاش کا کوئی فائدہ نہیں۔“