حدیث نمبر: 902
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَحْمُ الصَّيْدِ لَكُمْ فِي الْإِحْرَامِ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ" .
حافظ محمد فہد
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شکار کا گوشت حالتِ احرام میں تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم اسے شکار نہ کرو یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 903
أَخْبَرَنَا مَنْ، سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ بِلَالٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے بھی نبی ﷺ سے اس طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 904
هَكَذَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے اس طرح روایت ہے۔
حدیث نمبر: 905
قَالَ الشَّافِعِيُّ، وَابْنُ أَبِي يَحْيَى أَحْفَظُ مِنَ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَسُلَيْمَانُ مِنَ ابْنِ أَبِي يَحْيَى.
حافظ محمد فہد
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابن ابی یحیی دراوردی سے اور سلیمان ابن ابی یحیی سے زیادہ حفظ والے ہیں۔
حدیث نمبر: 906
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ: أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي قَالَ: "إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ" .
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے کہ جب وہ ابواء یا ودان مقام پر تھے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک جنگلی گدھا تحفہ میں دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے واپس کر دیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے ان کے چہرے پر ناگواری دیکھی تو فرمایا: ”اگر ہم احرام میں نہ ہوتے تو آپ کو واپس نہ کرتے۔“
حدیث نمبر: 907
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا، فَأَخَذَ رُمْحَهُ، فَشَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: "إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ تَعَالَى" .
حافظ محمد فہد
ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ کے راستے میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ اپنے چند ساتھیوں سمیت جو احرام میں تھے پیچھے رہ گئے اور خود (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) وہ احرام میں نہ تھے انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا، اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں سے (جو محرم تھے) کہا کوڑا اٹھا دیں، انہوں نے انکار کر دیا، پھر انہوں نے اپنا نیزہ مانگا، انہوں نے یہ دینے سے بھی انکار کر دیا، آخر خود اپنا نیزہ لیا، گدھے پر جھپٹ پڑے اور اسے مار گرایا، نبی ﷺ کے صحابہ میں سے بعض نے اس کا گوشت کھایا اور بعض نے انکار کر دیا، (احرام کی وجہ سے) پھر جب یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو اس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک کھانا تھا جو اللہ تعالیٰ نے تم کو کھلایا۔“
حدیث نمبر: 908
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي الْحِمَارِ الْوَحْشِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ.
حافظ محمد فہد
عطاء بن يسار رحمہ اللہ کے واسطہ سے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا جنگلی گدھے کا واقعہ ابو النضر کی حدیث کی مثل بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 909
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْعَرْجِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَقَدْ غَطَّى وَجْهَهُ بِقَطِيفَةٍ أُرْجُوَانٍ ثُمَّ أُتِيَ بِلَحْمِ صَيْدٍ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا، قَالُوا: أَلَا تَأْكُلُ أَنْتَ؟ قَالَ: إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنَّمَا صِيدَ مِنْ أَجْلِي. أَخْرَجَ السَّبْعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّامِنَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے فرمایا میں نے گرمی کے دنوں میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مقامِ عرج پر حالتِ احرام میں دیکھا، انہوں نے ایک سرخ چادر سے اپنے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پھر ان کے پاس شکار کا گوشت لایا گیا تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا، تم کھاؤ! انہوں نے کہا کیا آپ نہیں کھائیں گے؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں، کیونکہ یہ شکار میرے لیے کیا گیا ہے۔“