کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: شتر مرغ کے انڈے اور ٹڈی کے احکام اور حدودِ حرم میں ٹڈی کے شکار کی ممانعت
حدیث نمبر: 892
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّهُ قَالَ فِي بَيْضَةِ النَّعَامَةِ [ ص: 227 ] يُصِيبُهَا الْمُحْرِمُ: صَوْمُ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ.
حافظ محمد فہد
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے شتر مرغ کے انڈے کے متعلق فرمایا: ”جس کو محرم اٹھا لیتا ہے کہ اس پر ایک دن کے روزہ یا ایک مسکین کے کھانے کا فدیہ ہے۔“
حدیث نمبر: 893
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَهُ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے۔
حدیث نمبر: 894
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَكَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي أُنَاسٍ مُحْرِمِينَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَكَعْبٌ عَلَى نَارٍ يَصْطَلِي مَرَّتْ بِهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَخَذَ جَرَادَتَيْنِ فَمَلَّهُمَا وَنَسِيَ إِحْرَامَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ إِحْرَامَهُ فَأَلْقَاهُمَا. فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلَ الْقَوْمُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُ فَقَصَّ كَعْبٌ قِصَّةَ الْجَرَادَتَيْنِ عَلَى عُمَرَ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَنْ بِذَلِكَ؟ لَعَلَّكَ بِذَلِكَ يَا كَعْبُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ حِمْيَرَ تُحِبُّ الْجَرَادَ، قَالَ: مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ؟ قَالَ: دِرْهَمَيْنِ قَالَ: بَخْ دِرْهَمَانِ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ جَرَادَةٍ، اجْعَلْ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ.
حافظ محمد فہد
یوسف بن ماہک سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی عمار نے اسے بتایا کہ وہ معاذ بن جبل اور کعب الاحبار رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوگوں میں عمرہ کے لیے بیت المقدس سے حالتِ احرام میں آئے۔ یہاں تک کہ جب ہم راستے میں تھے اور کعب آگ سینک رہے تھے تو ان کے پاس سے ٹڈیوں کا ایک لشکر گزرا تو انہوں نے دو ٹڈیوں کو پکڑا اور انہیں بھون لیا اور اپنا احرام بھول گئے۔ پھر جب انہیں اپنا احرام میں ہونا یاد آیا تو ان کو پھینک دیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو قوم والے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور میں بھی آیا، تو کعب رضی اللہ عنہ نے ٹڈیوں کا عمر رضی اللہ عنہ سے قصہ بیان کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”وہ کون ہے؟ شاید اے کعب وہ آپ ہیں؟“ کعب نے کہا: ”ہاں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک حمیر (یمن کا ایک قدیم قبیلہ) ٹڈیوں کو پسند کرتا ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم نے اپنے آپ پر کتنے فدیہ کا حساب لگایا ہے؟“ فرمایا: ”دو درہم۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”واہ! دو درہم تو سو ٹڈیوں سے بہتر ہیں، لہذا وہ رکھو جو تم نے اپنے آپ پر حساب لگایا ہے۔“
حدیث نمبر: 895
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ: قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ صَيْدِ الْجَرَادِ فِي الْحَرَمِ. فَقَالَ: لَا، وَنَهَى عَنْهُ، قَالَ: أَمَا قُلْتَ لَهُ، أَوْ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَإِنَّ قَوْمَكَ يَأْخُذُونَهُ وَهُمْ مُحْتَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ؟ فَقَالَ: لَا يَعْلَمُونَ.
حافظ محمد فہد
عطاء کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حرم میں ٹڈیوں کے شکار کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ”نہیں۔“ اور اس سے روک دیا، عطاء نے کہا: میں نے انہیں کہا یا قوم سے ایک آدمی نے کہا، کہ آپ کی قوم والے مسجد میں اپنے آپ کو کپڑوں سے باندھ کر بیٹھے ہوتے ہیں تو وہ ان کو پکڑتے ہیں؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ علم نہیں رکھتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 896
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مُنْحَنُونَ. وَرَوَى الْحُفَّاظُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ: وَهُمْ مُنْحَنُونَ وَهُوَ أَفْصَحُ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے مگر اس میں راوی نے «محتبون» کی بجائے «منحنون» (کہ وہ جھکے ہوتے ہیں) کے الفاظ کو بیان کیا ہے۔ اور حفاظ نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ «منحنون» ، «محتبون» سے زیادہ فصیح ہے۔
حدیث نمبر: 897
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ جَرَادَةٍ قَتَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِيهَا قَبْضَةٌ مِنْ طَعَامٍ وَلْيَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ وَلَكِنْ وَلَوْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ: وَلْيَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةٍ جَرَادَاتٍ ، أَيْ إِنَّمَا فِيهَا الْقِيمَةُ، وَقَوْلُهُ: "وَلَوْ" ، يَقُولُ: يَحْتَاطُ بِقِيمَةٍ فَيُخْرِجُ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْكَ، بَعْدَ مَا أَعْلَمْتُكَ أَنَّهُ أَكْثَرُ مِمَّا عَلَيْكَ .
حافظ محمد فہد
قاسم بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے آپ سے بحالتِ احرام ٹڈی مارنے کا مسئلہ پوچھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس میں مٹھی بھر کھانا (بطورِ فدیہ) ہے اور اسے چاہیے کہ وہ مٹھی بھر ٹڈیاں ضرور پکڑے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ مٹھی بھر ٹڈیاں پکڑے، اس کا مطلب ہے کہ اس میں صرف قیمت ہی ہوگی اور آپ کے «ولو» کہنے کا مطلب ہے کہ اس قیمت کی ادائیگی میں احتیاط برتی جائے گی اور جو تجھ پر فرض ہے اس سے زیادہ نکالے گا، بعد اس کے کہ میں نے تمہیں بتلا دیا ہے کہ وہ اس سے زیادہ ہے جو تجھ پر فرض ہے۔
حدیث نمبر: 898
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ مُحْرِمٍ أَصَابَ جَرَادَةً. فَقَالَ: يَصَّدَّقُ بِقَبْضَةٍ مِنْ طَعَامٍ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَيَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ، وَلَكِنْ عَلَى ذَلِكَ رَأَى. أَخْرَجَ السِّتَّةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَالسَّابِعَ مِنْ كِتَابِ مُخْتَصَرِ الْحَجِّ الْكَبِيرِ.
حافظ محمد فہد
بکیر بن عبد اللہ، قاسم سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس محرم کے بارے میں سوال کیا جو ٹڈی کا شکار کرتا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ ایک مٹھی اناج صدقہ کرے۔ نیز ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ ٹڈیوں کی مٹھی پکڑے، لیکن اس پر رائے ہے (یعنی شرعی دلیل نہیں ہے)۔