کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: اللہ کا فرمان : ”حالتِ احرام میں شکار نہ کرو“ اور وہ جانور جن کے شکار کی اجازت نہیں اور کعبہ کے پاس چوپایوں کا فدیہ
حدیث نمبر: 878
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: لا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا [الْمَائِدَةِ: 95] قَالَ: قُلْتُ لَهُ: فَمَنْ قَتَلَهُ خَطَأً أَيَغْرَمُ؟ قَالَ: نَعَمْ. يُعَظِّمُ بِذَلِكَ حُرُمَاتِ اللَّهِ وَمَضَتْ بِهِ السُّنَنُ.
حافظ محمد فہد
ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے فرمایا: ”میں نے عطاء رحمہ اللہ سے اللہ کے فرمان ”نہ تم شکار کو قتل کرو جبکہ تم حالتِ احرام میں ہو، اور جو کوئی تم میں سے اسے جان بوجھ کر قتل کرے گا“ (المائده: 95) کے متعلق پوچھا: کیا جس نے بغیر ارادہ کے قتل کیا، اس پر بھی دیت ہے؟ عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ہاں، اس سے اللہ کی حرمات کی تعظیم ہوتی ہے اور اسی طرح عمل ہو چکے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 878
تخریج حدیث اسناده حسن اخرجه البيهقي: 5/ 180 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3141) - وعبدالرزاق (8175) وابن ابي شيبة (15288)۔
حدیث نمبر: 879
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّاسَ يَغْرَمُونَ فِي الْخَطَأِ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لوگ (جانور کے) قتلِ خطا میں بھی دیت دیتے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 879
تخریج حدیث اسناده ضعيف لعنعنة ابن جريج وهو مدلس: اخرجه البيهقي: 5/ 180 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3142)۔
حدیث نمبر: 880
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: كَانَ مُجَاهِدٌ يَقُولُ: مَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا غَيْرَ نَاسٍ لِحُرْمِهِ وَلَا مُرِيدًا غَيْرَهُ، فَأَخْطَأَ بِهِ فَقَدْ أَحَلَّ، وَلَيْسَتْ لَهُ رُخْصَةٌ، وَمَنْ قَتَلَهُ نَاسِيًا لِحُرْمِهِ أَوْ أَرَادَ غَيْرَهُ فَأَخْطَأَ بِهِ، فَذَلِكَ الْعَمْدُ الْمُكَفَّرُ عَلَيْهِ النَّعَمُ.
حافظ محمد فہد
ابن جریج نے کہا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جس نے تم میں سے (شکار کو) جان بوجھ کر بغیر بھولے قتل کر دیا اس کے احرام ہوتے ہوئے اور اس (قاتل) کا اس کے علاوہ اور کوئی ارادہ نہیں، تو اس نے غلطی کی اور وہ حلال ہو گیا اور اس کے لیے کوئی رخصت نہیں؛ اور جس نے اس کی حرمت کو یاد نہ رکھتے ہوئے قتل کر دیا یا اس کے علاوہ کسی اور کا ارادہ تھا تو اس سے بھی غلطی ہوئی یہ (غلطی والا) ارادہ ایسا ہے جس پر (اس کی مثل) جانور سے کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 880
تخریج حدیث اسناده حسن اخرجه البيهقى فى المعرفة السنن والآثار (15293)۔
حدیث نمبر: 881
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ [الْمَائِدَةِ: 95] . قَالَ: مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَصَابَهُ فِي حَرَمٍ يُرِيدُ الْبَيْتَ كَفَّارَةُ ذَلِكَ عِنْدَ الْبَيْتِ.
حافظ محمد فہد
ابن جریج سے روایت ہے فرمایا، میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: ”اور فدیہ واجب ہے اس جانور کے مساوی جس کو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو قابل اعتبار شخص کریں (خواہ وہ فدیہ چوپایوں میں سے ہو) جو ہدی کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے یا کفارہ کے طور پر مساکین کو کھانا کھلا دیا جائے۔“ (المائدہ: 95) عطاء رحمہ اللہ نے کہا، اس لیے کہ اس نے حرم میں اس جانور کا شکار کیا ہے اور وہ بیت اللہ کا ارادہ بھی رکھتا ہے تو اس کا کفارہ بھی بیت اللہ کے پاس ہی ادا کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 881
تخریج حدیث اسناده حسن اخرجه البيهقي: 1/ 180 ، 187 - وفى المعرفة السنن والآثار له، رقم : (3141)۔
حدیث نمبر: 882
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ [الْبَقَرَةِ: 196] لَهُ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ. أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن دینار سے اللہ کے فرمان: ”فدیہ ہے خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ کرے، خواہ قربانی کر دے۔“ (البقرہ: 196) کے متعلق روایت ہے کہ اس میں اختیار ہے جو چاہے کرے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 882
تخریج حدیث اسناده ضعيف، لعنعة ابن جريج : اخرجه البيهقى 185/5 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3175)۔