کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: محرم خوشبو والا سرمہ نہ لگائے، نہ خوشبودار پودے سونگھے اور نہ تیل و خوشبو استعمال کرے
حدیث نمبر: 864
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا رَمِدَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ أَقْطَرَ فِي عَيْنَيْهِ الصَّبِرَ إِقْطَارًا وَأَنَّهُ قَالَ: يَكْتَحِلُ الْمُحْرِمُ بِأَيِّ كُحْلٍ إِذَا رَمِدَ مَا لَمْ يَكْتَحِلْ بِطِيبٍ وَمِنْ غَيْرِ رَمَدٍ. ابْنُ عُمَرَ الْقَائِلُ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ان کو حالتِ احرام میں چشم آشوب ہو جاتی تو وہ ایلوا کے قطرے آنکھوں میں ڈالتے اور انہوں نے فرمایا: ”محرم ہر قسم کا سرمہ آشوبِ چشم میں لگا سکتا ہے سوائے خوشبو والے سرمہ کے کہ وہ آشوبِ چشم کی بیماری کے بغیر (عام حالت میں) بھی ٹھیک نہیں۔“
حدیث نمبر: 865
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُ سُئِلَ أَيَشُمُّ الْمُحْرِمُ الرَّيْحَانَ وَالدُّهْنَ وَالطِّيبَ؟ فَقَالَ: لَا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا: ”کیا محرم ریحان (خوشبو دار بوٹی)، تیل اور خوشبو سونگھ سکتا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“