حدیث نمبر: 860
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ، وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ. قَالَ: فَسَلَّمْتُ. فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ [ ص: 215 ] ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ: فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَيْهِ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ: اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا مقام ابواء میں اختلاف ہوا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا، محرم اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور نے کہا، محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا۔ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے پاس (مسئلہ پوچھنے کے لیے) بھیجا۔ میں پہنچا تو وہ کنویں کی دو لکڑیوں کے بیچ غسل کر رہے تھے، ایک کپڑے سے انہوں نے پردہ کر رکھا تھا۔ میں نے پہنچ کر سلام کیا تو انہوں نے پوچھا: ”کون ہو؟“ میں نے کہا: ”میں عبداللہ ہوں اور مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ آپ سے دریافت کروں کہ احرام کی حالت میں رسول اللہ ﷺ سر مبارک کس طرح دھوتے تھے۔“ فرمایا (یہ سن کر) اپنے ہاتھ کپڑے پر (جس سے پردہ کیا ہوا تھا) رکھ کر اسے نیچے کیا حتیٰ کہ مجھے آپ کا سر نظر آیا، پھر جو شخص ان کے بدن پر پانی ڈال رہا تھا، اس سے انہوں نے پانی ڈالنے کے لیے کہا۔ اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر انہوں نے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دھویا اور دونوں ہاتھ آگے لے گئے پھر پیچھے لائے، پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو (حالتِ احرام میں) اسی طرح کرتے دیکھا۔“
حدیث نمبر: 861
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ: أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَغْتَسِلُ إِلَى بَعِيرٍ وَأَنَا أَسْتُرُ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ إِذْ قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا يَعْلَى، اصْبُبْ عَلَى رَأْسِي، فَقُلْتُ: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَعْلَمُ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَاللَّهِ مَا يَزِيدُ الْمَاءُ الشَّعَرَ إِلَّا شَعْثًا فَسَمَّى اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ.
حافظ محمد فہد
یعلی بن امیہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک اونٹ کی اوٹ میں غسل کر رہے تھے اور میں نے ان پر ایک کپڑے سے پردہ کر رکھا تھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے یعلی! میرے سر پر پانی ڈالو“، تو میں نے کہا: ”امیر المومنین بہتر جانتے ہیں۔“ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! پانی بالوں کو پراگندگی میں ہی زیادہ کرتا ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنے سر پر پانی ڈالا۔
حدیث نمبر: 862
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رُبَّمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَعَالَ أُبَاقِيكَ فِي الْمَاءِ أَيُّنَا أَطْوَلُ نَفَسًا، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: بعض دفعہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آؤ میں تجھے پانی میں غوطہ دوں تاکہ ہم دیکھیں کس کا سانس لمبا ہے“، اور ہم احرام کی حالت میں تھے۔
حدیث نمبر: 863
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ دَخَلَ حَمَّامًا وَهُوَ بِالْجُحْفَةِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَقَالَ: مَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِأَوْسَاخِنَا شَيْئًا. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جحفہ مقام پر حالتِ احرام میں حمام میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہماری میل کچیل کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے۔“