کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: عورتوں سے متعلق (حج و عمرہ کے) مخصوص مسائل
حدیث نمبر: 851
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ" .
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک دن رات کا سفر بغیر کسی محرم کے کرے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 851
تخریج حدیث اخرجه البخاري، التقصير ، باب في كم يقصر الصلاة (1088) ومسلم ، الحج، باب سفر المرأة مع محرم الى حج وغيره (1399)۔
حدیث نمبر: 852
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ: "لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ" . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوِ كَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ امْرَأَتِي انْطَلَقَتْ حَاجَّةً قَالَ: "انْطَلِقْ فَاحْجُجْ بِامْرَأَتِكَ" .
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے سنا کہ: ”کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے، اور کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے محرم رشتہ دار کے بغیر سفر کرے۔“ ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھ دیا گیا ہے جبکہ میری بیوی حج کے لیے چلی گئی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ تم بھی اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 852
تخریج حدیث اخرجه البخارى، جزاء الصيد، باب حج الصبيان (1862) ومسلم ، الحج، باب سفر المرأة مع محرم الى حج وغيره (1341)۔
حدیث نمبر: 853
أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَحَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَلَمَّا كُنَّا بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ وَالْإِحْرَامِ.
حافظ محمد فہد
جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی جابر رضی اللہ عنہ نے اور وہ نبی ﷺ کے حج (حجۃ الوداع) کے متعلق بیان کر رہے تھے۔ فرمایا: جب ہم ذوالحلیفہ مقام پر پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا، تو نبی کریم ﷺ نے اسے غسل کر کے احرام باندھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 853
تخریج حدیث اخرجه مسلم ، الحج، باب صحة احرام النفساء و استحباب اغتسالها للإحرام، وكذا الحائض (1210)۔
حدیث نمبر: 854
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُ سَمِعَهُ [ ص: 212 ] يَقُولُ: لَا تَلْبَسُ الْمَرْأَةُ ثِيَابَ الطِّيبِ، وَتَلْبَسُ الثِّيَابَ الْمُعَصْفَرَةَ، لَا أَرَى الْمُعَصْفَرَ طِيبًا.
حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں: ”عورت خوشبو والے کپڑے نہیں پہنے گی، اور وہ زرد رنگ والے کپڑے پہن لے، کیونکہ میرے خیال میں زرد رنگ خوشبو نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 854
تخریج حدیث اسناده ضعیف، فان ابن جريج مدلس، وقد عنعن اخرجه البيهقي: 59/5 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له ، رقم : 2859 ۔ وابن أبي شيبہ رقم : (12880)۔
حدیث نمبر: 855
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تُدْنِي عَلَيْهَا مِنْ جَلَابِيبِهَا وَلَا تَضْرِبُ بِهِ. قُلْتُ: وَمَا لَا تَضْرِبُ بِهِ؟ فَأَشَارَ لِي: كَمَا تَجَلْبَبُ الْمَرْأَةُ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَى مَا عَلَى خَدِّهَا مِنَ الْجِلْبَابِ، فَقَالَ: لَا تُغَطِّيهِ فَتَضْرِبُ بِهِ عَلَى وَجْهِهَا، فَذَلِكَ الَّذِي لَا يَبْقَى عَلَيْهَا، وَلَكِنْ تَسْدُلُهَا عَلَى وَجْهِهَا كَمَا هُوَ مَسْدُولًا وَلَا تَقْلِبُهُ وَلَا تَضْرِبُ بِهِ وَلَا تَعْطِفُهُ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا: ”عورت بڑی چادر اوڑھے گی اور اس طرح نہیں کرے گی۔“ عطاء کہتے ہیں میں نے پوچھا کیا نہیں کرے گی؟ تو انہوں نے مجھے اشارہ کر کے بتایا، جس طرح عورت اوڑھنی لیتی ہے۔ پھر جو اوڑھنی رخسار پر ہوتی ہے اس کا اشارہ کیا اور فرمایا: ”اس سے اپنے چہرے کو نہیں چھپائے گی اور جو اضافی چادر ہوگی اس کو چہرے پر اسی طرح لٹکائے گی جس طرح کہ وہ لٹکی ہوتی ہے۔ نہ اس کو الٹے گی، نہ ڈالے گی، اور نہ اس کو ملائے گی۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 855
تخریج حدیث اسناده حسن اخرجه البيهقي في السنن والآثار (2822)۔
حدیث نمبر: 856
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي النِّسَاءَ إِذَا أَحْرَمْنَ أَنْ يَقْطَعْنَ الْخُفَّيْنِ، حَتَّى أَخْبَرَتْهُ صَفِيَّةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ تُفْتِي النِّسَاءَ لَا يَقْطَعْنَ فَانْتَهَى عَنْهُ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عورتوں کو فتویٰ دیتے کہ وہ احرام میں اپنے موزوں کو کاٹ دیں۔ یہاں تک کہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے بتایا کہ وہ عورتوں کو فتویٰ دیتی تھیں کہ وہ موزے نہ کاٹیں۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے فتویٰ کو ترک کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 856
تخریج حدیث اخرجه البيهقى 525 - وفى المعرفة السنن والآثار له (2839) واحمد: 2/ 29 - وصححه ابن خزيمة (2686)۔
حدیث نمبر: 857
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ [ ص: 213 ] بِنْتِ شَيْبَةَ: أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِذْ جَاءَتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ يُقَالُ لَهَا: تَمْلِكُ، قَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ ابْنَتِي فُلَانَةَ حَلَفَتْ: لَا تَلْبَسْ حُلِيَّهَا فِي الْمَوْسِمِ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قُولِي لَهَا: إِنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُقْسِمُ عَلَيْكِ إِلَّا لَبِسْتِ حُلِيَّكِ كُلَّهُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ وَإِلَى آخِرِ السَّابِعِ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی جب بنی عبدالدار کی عورتوں میں سے ایک عورت آئی جسے تملک کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا: ”اے ام المومنین! میری فلاں بیٹی نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ موسم (حج) میں اپنے زیورات نہیں پہنے گی۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ مومنوں کی ماں تجھے قسم دے کر کہتی ہے کہ تو اپنے سارے زیورات پہن لے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 857
تخریج حدیث اسناده حسن : اخرجه البيهقي : 52/5. وفي المعرفة السنن والآثار له (2840)۔