کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: تلبیہ بلند آواز سے کہنے، کثرت سے پڑھنے اور اس کے بعد دعا کا بیان
حدیث نمبر: 824
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَانِي جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَوْ مَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ أَوْ بِالْإِهْلَالِ، يُرِيدُ أَحَدَهُمَا.
حافظ محمد فہد
سائب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کرام یا جو میرے ساتھ ہیں ان کو حکم دوں کہ وہ تکبیر یا تلبیہ کے وقت اپنی آوازوں کو بلند کریں، وہ ان دونوں میں سے ایک کا ارادہ کرتے ہیں“۔
حدیث نمبر: 825
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ مِنَ التَّلْبِيَةِ.
حافظ محمد فہد
محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کثرت سے تلبیہ کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 826
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يُلَبِّي رَاكِبًا وَنَازِلًا وَمُضْطَجِعًا.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سوار، پیدل اور لیٹے ہوئے بھی تلبیہ کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 827
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ تَلْبِيَتِهِ، سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى رِضْوَانَهُ وَالْجَنَّةَ، وَاسْتَعْفَاهُ بِرَحْمَتِهِ مِنَ النَّارِ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی اور جنت کا سوال کرتے ، اور اس کی رحمت کے وسیلہ سے جہنم سے معافی مانگتے۔