حدیث نمبر: 817
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رُقَيْشٍ: أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَلْبِيَتِهِ قَطُّ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً.
حافظ محمد فہد
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی اپنے تلبیہ میں حج اور عمرہ کا نام نہیں لیا۔
حدیث نمبر: 818
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ [ ص: 197 ] اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ. قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا: اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہی تیرے لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتے ، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، اور تیری عبادت سے موافقت کرتا ہوں، اور (ہر قسم) خیر تیرے ہاتھوں میں ہے۔ (ہر قسم کی) رغبت اور عمل تیری طرف ہے۔ (یعنی تیرے لیے ہے)
حدیث نمبر: 819
أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ.
حافظ محمد فہد
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے توحید کے ساتھ یہ تلبیہ کہا: میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور تیرے لیے ہی بادشاہت ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔
حدیث نمبر: 820
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَذَكَرَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَاجِشُونِ، عَنْ [ ص: 198 ] عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ لَبَّيْكَ.
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ میں سے یہ بھی تھے، میں حاضر ہوں اے حقیقی معبود میں حاضر ہوں۔
حدیث نمبر: 821
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُظْهِرُ مِنَ التَّلْبِيَةِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ. قَالَ: حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ يُصْرَفُونَ عَنْهُ، كَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ مَا هُوَ فِيهِ، فَزَادَ فِيهِ: لَبَّيْكَ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَحَسِبْتُ أَنَّ ذَلِكَ يَوْمَ عَرَفَةَ.
حافظ محمد فہد
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے تلبیہ سے ظاہر فرماتے: “میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور تیری ہی بادشاہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں فرمایا حتی کہ ایک دن جب لوگ واپس آرہے تھے تو گویا اس کے الفاظ نے آپ کو خوش کر دیا، تو آپ نے اس میں یہ الفاظ زیادہ کر دیئے۔ میں حاضر ہوں، اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے”۔ ابن جریج نے کہا: میرے خیال میں یہ عرفہ کا دن تھا۔
حدیث نمبر: 822
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّهُ قَالَ: سَمِعَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ بَعْضَ بَنِي أَخِيهِ وَهُوَ يُلَبِّي: يَا ذَا الْمَعَارِجِ، فَقَالَ سَعْدٌ: الْمَعَارِجُ؟ إِنَّهُ لَذُو الْمَعَارِجِ، وَمَا هَكَذَا كُنَّا نُلَبِّي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ محمد فہد
عبدالله بن ابی سلمہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجوں میں سے کسی کو تلبیہ کہتے سنا وہ کہہ رہا ہے، اے سیڑھیوں والے، تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کیا سیڑھیاں؟ بے شک وہ سیڑھیوں والا ہے، مگر ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اس طرح تلبیہ نہیں کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 823
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ: أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ. أَخْرَجَ الْخَمَسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَالسَّادِسَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
محمد بن ابو بکر ثقفی سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا جبکہ وہ دونوں صبح کو منی سے عرفات جا رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ لوگ آج کے دن کیا کرتے تھے؟ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی ہم میں سے لبیک پکار رہا ہوتا تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہ کرتا اور کوئی تکبیر کہتا تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہ کرتا۔