حدیث نمبر: 812
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، [ ص: 195 ] عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِضُبَاعَةَ ابْنَةِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: "أَمَا تُرِيدِينَ الْحَجَّ" ؟ فَقَالَتْ: إِنِّي شَاكِيَةٌ. فَقَالَ لَهَا: "حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي" .
حافظ محمد فہد
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ضباعہ بنت زبیر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: “کیا تیرا حج کا ارادہ نہیں؟” تو انہوں نے کہا میں (بیماری کے بارے میں) شک کرنے والی ہوں۔ آپ ﷺ نے اسے کہا: “حج کا احرام باندھ لو اور شرط لگا لو کہ میں وہاں حلال ہو جاؤں گی جہاں مجھے (مرض کی وجہ سے) تو روک لے گا“۔
حدیث نمبر: 813
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: هَلْ تَسْتَثْنِي إِذَا حَجَجْتَ؟ فَقُلْتُ لَهَا: مَاذَا أَقُولُ؟ فَقَالَتْ: قُلِ: اللَّهُمَّ الْحَجَّ أَرَدْتُ وَلَهُ عَمَدْتُ، فَإِنْ يَسَّرْتَهُ فَهُوَ الْحَجُّ، وَإِنْ حَبَسَنِي حَابِسٌ فَهِيَ عُمْرَةٌ.
حافظ محمد فہد
عروہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کیا جب تو حج کرے تو استثناء کرتا ہے؟ عروہ کہتے ہیں میں نے کہا میں کیا کہوں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہہ اے اللہ میں نے حج کا ارادہ کیا اور اس کے لیے قصد کیا، اگر تو میرے لیے آسان بنا دے تو وہ حج ہے اور اگر مجھے کوئی روکنے والا روک لے تو یہ عمرہ ہے۔
حدیث نمبر: 814
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ زَمَنَ الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا، فَقَالَ: إِنْ صَدَدْتَ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنْعَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي أَحْلَلْنَا كَمَا أَحْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ وہ فتنہ کے زمانہ میں عمرہ کے لیے مکہ کی طرف نکلے، اور فرمایا: اگر مجھے بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا گیا تو ہم اسی طرح کریں گے جس طرح ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا، یعنی ہم اس طرح حلال ہو جائیں گے جس طرح ہم صلح حدیبیہ والے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حلال ہو گئے تھے۔
حدیث نمبر: 815
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ضُبَاعَةَ فَقَالَ: "أَمَا تُرِيدِينَ الْحَجَّ" ؟ قَالَتْ: إِنِّي شَاكِيَةٌ، قَالَ: "حُجِّي وَاشْتَرِطِي مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي" .
حافظ محمد فہد
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ضباعہ کو حکم دیا اور فرمایا: ”کیا تو حج نہیں کرنا چاہتی؟“ اس نے کہا میں (بیماری کا) شک کرنے والی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج کا احرام باندھ لو اور شرط لگا لو کہ میں وہاں حلال ہو جاؤں گی جہاں تو مجھے (مرض کی وجہ سے) روک دے گا“۔
حدیث نمبر: 816
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يَابْنَ أُخْتِي هَلْ تَسْتَثْنِي إِذَا حَجَجْتَ؟ قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ؟ قَالَتْ: قُلِ: اللَّهُمَّ الْحَجَّ أَرَدْتُ، وَلَهُ عَمَدْتُ فَإِنْ يَسَّرْتَهُ فَهُوَ الْحَجُّ وَإِنْ حَبَسَنِي حَابِسٌ فَهُوَ عُمْرَةٌ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ وَالرَّابِعَ وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے بھانجے کیا تو جب حج کا ارادہ کرتا ہے تو استثناء بھی کرتا ہے؟ میں نے کہا، کیا کہوں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کہ اے اللہ میں نے حج کا ارادہ کیا، اور اسی کے لیے قصد کیا، اگر تو میرے لیے آسانی پیدا فرما دے تو وہ حج ہے اور اگر کوئی روکنے والا مجھے روک دے تو وہ عمرہ ہے“۔