حدیث نمبر: 807
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ: أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ عَامَ حَجِّ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَتَذَاكَرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ تَعَالَى. فَقَالَ سَعْدٌ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَابْنَ أَخِي. فَقَالَ: فَإِنَّ عُمَرَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ.
حافظ محمد فہد
محمد بن عبد اللہ بن حارث بن نوفل رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما کو جس سال معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حج کے لیے آئے، آپس میں حج تمتع کے متعلق باتیں کرتے سنا تو ضحاک نے کہا (حج تمتع) صرف وہی کرے گا جس کو اللہ کی شریعت کا علم نہیں ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھتیجے تو نے اچھا نہیں کہا، ضحاک نے کہا بے شک عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، تو سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حج تمتع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج تمتع کیا)۔
حدیث نمبر: 808
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: لَأَنْ أَعْتَمِرَ قَبْلَ الْحَجِّ وَأُهْدِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَمِرَ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: میں حج سے پہلے عمرہ کروں اور قربانی دوں یہ بات مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ذی الحجہ میں حج کے بعد عمرہ کروں۔
حدیث نمبر: 809
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ قِيلَ لَهُ، كَيْفَ تَأْمُرُ بِالْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ وَاللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ: وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ [الْبَقَرَةِ: 196] ؟ فَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَءُونَ إِنَّ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ أَوِ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ؟ قَالُوا: الْوَصِيَّةُ قَبْلَ الدَّيْنِ. قَالَ: فَبِأَيَّتِهِمَا تَبْدَءُونَ، قَالُوا: بِالدَّيْنِ، قَالَ: فَهُوَ ذَلِكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي أَنَّ التَّقْدِيمَ جَائِزٌ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا آپ حج سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کے متعلق کیا کہتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تم کس طرح پڑھتے ہو کہ کیا قرض کی ادائیگی وصیت پر عمل کرنے سے پہلے ہے یا وصیت پر عمل قرض کی ادائیگی سے پہلے ہو گا؟ انہوں نے کہا: وصیت پر عمل قرض کی ادائیگی سے پہلے ہے۔ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے تم کس سے ابتداء کرو گے؟ تو انہوں نے کہا: قرض سے (یعنی پہلے قرض دیں گے) آپ نے فرمایا: تو یہی ہے وہ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی حج سے پہلے عمرہ کرنا جائز ہے۔