حدیث نمبر: 799
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ ص: 188 ] حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ رَاكِبٍ وَرَاجِلٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ وَرَائِهِ كُلُّهُمْ يُرِيدُ أَنْ يَأْتَمَّ بِهِ، يَلْتَمِسُ أَنْ يَقُولَ كَمَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَعْرِفُ غَيْرَهُ، وَلَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ فَلَمَّا طُفْنَا فَكُنَّا عِنْدَ الْمَرْوَةِ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ، وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ" ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ.
حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ کے حج کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم بیداء مقام پر تھے تو میں نے اپنے آگے، دائیں، بائیں اور پیچھے تاحدِ نگاہ سوار اور پیدل چلنے والے دیکھے۔ ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ وہ اس (حج) کو مکمل کرے۔ اور ہر کوئی اس کوشش میں تھا کہ اسی طرح کرے جس طرح رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں۔ ہماری حج کے علاوہ کوئی اور نیت نہ تھی اور نہ ہم اس کے علاوہ کچھ جانتے تھے، اور نہ ہم (حج کے مہینوں میں) عمرہ کے متعلق جانتے تھے۔ جب ہم طواف کے بعد مروہ کے پاس تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے وہ احرام کھول دے اور اس احرام حج کو عمرہ بنالے (یعنی طواف سعی تو ہو چکی اور عمرہ کے افعال بھی پورے ہو گئے) اگر جو بات بعد میں میرے علم میں آئی ہے پہلے آجاتی تو میں قربانی نہ لاتا۔“ تو جن کے پاس قربانی نہ تھی انہوں نے احرام کھول دیا۔
حدیث نمبر: 800
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ" ، وَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحْلِلْ.
حافظ محمد فہد
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، بیان فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی (نہیں) ہے وہ حلال ہو جائے۔“ اور میرے پاس قربانی نہ تھی تو میں نے احرام کھول دیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس قربانی تھی تو انہوں نے احرام نہ کھولا۔
حدیث نمبر: 801
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ. قَالَ يَحْيَى: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ: جَاءَتْكَ وَاللَّهِ، بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ ابھی ذی القعدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف یا اس کے قریب تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، جس کے پاس قربانی نہیں وہ اپنے احرام (حج) کو عمرہ بنالے۔ اور جب ہم منی میں تھے میرے پاس گائے کا گوشت آیا میں نے کہا یہ کیسا گوشت ہے؟ کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد سے بیان کی تو انہوں نے کہا عمرہ! تیرے پاس اللہ کی قسم حدیث اپنی اصل شکل میں لائی ہیں۔
حدیث نمبر: 802
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، وَالْقَاسِمِ مِثْلَ حَدِيثِ سُفْيَانَ لَا يُخَالِفُ مَعْنَاهُ.
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے عمرہ اور قاسم دونوں سے سفیان رحمہ اللہ کی سند جیسی بغیر معنی کی مخالفت کے یہی حدیث مروی ہے۔
حدیث نمبر: 803
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهِشَامُ بْنُ حُجَيْرَةَ، سَمِعُوا طَاوُسًا، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ لَا يُسَمِّي [ ص: 190 ] حَجًّا وَلَا عُمْرَةً يَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ، فَنَزَلَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَهُوَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ أَهَلَّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَكِنْ لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَسُقْتُ هَدْيِي، وَلَيْسَ لِي مَحِلٌّ دُونَ مَحِلِّ هَدْيِي" ، فَقَامَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، أَعُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: "بَلْ لِلْأَبَدِ" ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. قَالَ: وَدَخَلَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بِمَ أَهْلَلْتَ" ؟ فَقَالَ: أَحَدُهُمَا عَنْ طَاوُسٍ: إِهْلَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ: لَبَّيْكَ حَجَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ محمد فہد
طاؤوس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے نکلے تو آپ ﷺ حج یا عمرہ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ آپ وحی کا انتظار فرما رہے تھے۔ جب آپ صفا اور مروہ کے درمیان تھے تو اس وقت وحی نازل ہوئی۔ تو آپ ﷺ نے ان صحابہ کرام کو حکم دیا جنہوں نے احرام (حج کا) باندھا ہوا تھا اور ان کے پاس قربانی نہ تھی کہ وہ اس کو عمرہ بنا لیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ بات جو مجھے بعد میں معلوم ہوئی پہلے معلوم ہو جاتی تو میں قربانی نہ لاتا۔ لیکن میں نے سر کے بال چپکا لیے اور قربانی ہانک لایا ہوں۔ اب میں قربانی کیے بغیر حلال نہیں ہو سکتا۔“ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: ”یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے ایک ایسی قوم کا فیصلہ کریں گویا جو آج ہی پیدا ہوئی، کیا ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ اب عمرہ (ایام) حج میں قیامت کے دن تک کے لیے داخل ہو گیا ہے۔“ طاؤوس نے کہا (مکہ میں) علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تو ان سے نبی ﷺ نے پوچھا: ”آپ نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟“ میسرہ اور ہشام بن حجیرہ میں سے ایک نے طاؤوس سے روایت کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نبی ﷺ کے احرام کا (یعنی جس نیت سے آپ ﷺ نے باندھا ہے)“ اور دوسرے نے کہا کہ ”میں حاضر ہوں نبی ﷺ کے حج کے ساتھ۔“
حدیث نمبر: 804
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فَتَدَارَكَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ، فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ لَا نَعْرِفُ إِلَّا الْحَجَّ، وَلَهُ خَرَجْنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا يُنَزَّلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ مَا أُمِرَ بِهِ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَلَمَّا طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ: "مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً" .
حافظ محمد فہد
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نو برس تک مدینہ میں رہے اور آپ ﷺ نے حج نہیں کیا، پھر (دسویں سال) لوگوں میں حج کے لیے منادی کرائی۔ لوگ آپ ﷺ کے ساتھ نکلنے کے لیے مدینہ میں آنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ (حج کے لیے) چلے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلے، ہم صرف حج کا ارادہ رکھتے تھے اور اسی غرض سے نکلے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تھے اور آپ ﷺ پر قرآن اترتا تھا اور آپ ﷺ اس کی حقیقت کو خوب جانتے تھے اور آپ ﷺ اسی طرح کرتے تھے جس طرح آپ کو حکم ہوتا تھا۔ جب ہم مکہ آپہنچے اور رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی نہیں وہ اس کو عمرہ بنا لے اور اگر وہ بات جو مجھے بعد میں معلوم ہوئی پہلے ہو جاتی تو میں قربانی نہ لاتا اور اس کو عمرہ بنا لیتا۔“
حدیث نمبر: 805
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ: أَنَّهُمَا سَمِعَا طَاوُسًا، يَقُولُ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَمِّي حَجًّا وَلَا عُمْرَةً يَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ، قَالَ: فَنَزَلَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَهُوَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَقَالَ: "لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَكِنْ لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَسُقْتُ هَدْيِي وَلَيْسَ لِي مَحِلٌّ إِلَّا عَلَى مَحِلِّ هَدْيِي" . فَقَامَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، أَعُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بَلْ لِلْأَبَدِ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي: "بِمَ أَهْلَلْتَ؟" فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَبَّيْكَ إِهْلَالٌ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَبَّيْكَ حَجَّةٌ كَحَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ محمد فہد
طاؤوس کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نکلے تو آپ حج اور عمرہ کا نام نہیں لے رہے تھے بلکہ آپ وحی کے منتظر تھے۔ طاؤوس نے کہا جب آپ صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگا رہے تھے تو آپ پر وحی نازل ہوئی۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ جس نے ان میں سے حج کے لیے احرام باندھا ہے اور اس کے پاس قربانی نہیں تو وہ اسے عمرہ بنا لے۔ پھر فرمایا: ”اگر مجھے پہلے معلوم ہو جاتا جو بعد میں ہوا تو میں قربانی نہ لاتا لیکن میں نے اپنے سر کے بال چپکا لیے ہیں اور قربانی ساتھ ہانک لایا ہوں، اب میرے لیے قربانی کیے بغیر حلال ہونا درست نہیں ہے۔“ پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی طرف کھڑے ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے بارے میں ایک نئی، آج کے دن جنم لینے والی قوم کی طرح فیصلہ کریں، یہ حج کو عمرہ کر ڈالنا ہمارے اسی سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے اس کی اجازت ہے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے اجازت ہے، عمرہ قیامت تک کے لیے (ایامِ) حج میں داخل ہو گیا ہے۔“ اس نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ (مکہ میں) یمن سے داخل ہوئے تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”آپ نے کس چیز کا احرام باندھا؟“ ابن طاووس اور ابراہیم بن میسرہ میں سے ایک نے کہا: ”میں نے احرام باندھ کر تلبیہ کہا نبی ﷺ کے احرام کی طرح“، اور دوسرے نے کہا: ”میں نے حج کا تلبیہ کہا نبی ﷺ کے حج کی طرح۔“
حدیث نمبر: 806
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ: أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: "إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ" . أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَإِلَى آخِرِ الثَّامِنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّامِنُ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں کی کیا حالت ہے کہ انہوں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا اور آپ نے اپنے عمرہ سے احرام نہیں کھولا؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کے بالوں کو چپکایا ہے اور اپنی قربانی کے گلے میں ہار ڈالا ہے، سو میں اس وقت تک احرام نہ کھولوں گا جب تک کہ قربانی ذبح نہ کر لوں۔“