حدیث نمبر: 759
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِالْمَدِينَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ؟ قَالَ: "يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ" . قَالَ لِي نَافِعٌ: وَيَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ مدینہ میں مدینہ والوں میں سے ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہوا اور اس نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہمیں کہاں سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کے لوگ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، شام کے لوگ جحفہ سے اور نجد کے لوگ قرن (منازل) سے احرام باندھیں“۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھ سے نافع رحمہ اللہ نے کہا وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اور یمن والے یلملم سے احرام باندھیں“۔
حدیث نمبر: 760
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ" . [ ص: 174 ] قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَيَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ" .
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کے لوگ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، شام کے لوگ جحفہ سے اور نجد کے لوگ قرن (منازل) سے احرام باندھیں“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، وہ (صحابہ رضی اللہ عنہم) یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یمن والے یلملم سے احرام باندھیں“۔
حدیث نمبر: 761
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: أُمِرَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثُ فَسَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ" .
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا مدینہ والوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، اور شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن (منازل) سے احرام باندھیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تین وہ مقامات ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یمن والے یلملم سے احرام باندھیں“۔
حدیث نمبر: 762
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ الْحُلَيْفَةَ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَذِهِ الْمَوَاقِيتُ لِأَهْلِهَا وَلِكُلِّ آتٍ عَلَيْهَا مِنْ غَيْرِ أَهْلِهَا مِمَّنْ أَرَادَ [ ص: 175 ] الْحَجَّ أَوِ الْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ أَهْلُهُ مِنْ دُونِ ذَلِكَ الْمِيقَاتِ فَلْيُهِلَّ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُ حَتَّى أَتَى ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ" .
حافظ محمد فہد
طاؤوس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرن منازل، اور یمن والوں کے لیے یلملم میقات مقرر کیے، پھر فرمایا: ”یہ وہاں کے رہنے والوں، اس جگہ پر آنے والوں جو وہاں کے رہائشی نہیں اور حج یا عمرہ کا ارادہ لے کر آئے ہیں ان کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ہے۔ لیکن جن کا قیام میقات اور مکہ کے درمیان ہے تو وہ احرام اسی جگہ سے باندھیں جہاں سے انہوں نے سفر شروع کرنا ہے یہاں تک کہ مکہ والے مکہ سے ہی احرام باندھ لیں۔“
حدیث نمبر: 763
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوَاقِيتِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ فِي الْمَوَاقِيتِ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے احرام باندھنے کی جگہوں کے بارے میں اسی طرح مروی ہے جس طرح سفیان رضی اللہ عنہ کی حدیث میقاتوں کے متعلق ہے۔
حدیث نمبر: 764
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ يَبْدَأُ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، یمن والوں کے لیے یلملم اور نجد والوں کے لیے قرن (منازل) کو میقات مقرر کیا، اور جن کا قیام میقات اور مکہ کے درمیان ہے تو وہ احرام وہیں سے باندھیں جہاں سے وہ سفر شروع کریں۔
حدیث نمبر: 765
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنِ الْمُهِلِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ ثُمَّ انْتَهَى أَرَاهُ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْأُخْرَى مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ الْمَغْرِبِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ" .
حافظ محمد فہد
ابو الزبير سے روایت ہے کہ انہوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا جب ان سے احرام باندھنے کی جگہ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے اس کو سنا، پھر خاموش ہو گئے میرے خیال سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرما رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ والے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں گے اور دوسرے راستے سے آنے والے جحفہ سے، اور احرام باندھیں گے، عراق والے ذات عرق سے، اور نجد والے قرن منازل سے اور یمن والے یلملم سے احرام باندھیں گے“۔
حدیث نمبر: 766
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الْمَغْرِبِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْمَشْرِقِ ذَاتَ عِرْقٍ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَمَنْ سَلَكَ نَجْدًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ وَغَيْرِهِمْ قَرْنَ ذِي الْمَعَادِنِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ.
حافظ محمد فہد
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ میقات مقرر کیا، مغرب والوں کے لیے جحفہ، مشرق والوں کے لیے ذات عرق، نجد والوں کے لیے قرن، اور جس نے یمن والوں میں سے یا ان کے علاوہ دوسروں نے نجد کا راستہ اختیار کیا ان کے لیے قرن ذوالمعادن اور یمن والوں کے لیے یلملم۔
حدیث نمبر: 767
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ عَطَاءً، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَعَمُوا لَمْ يُوَقِّتْ ذَاتَ عِرْقٍ، وَلَمْ يَكُنْ أَهْلُ الْمَشْرِقِ قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ، وَلَكِنْ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ حِينَئِذٍ قَالَ: كَذَلِكَ سَمِعْنَا: أَنَّهُ وَقَّتَ ذَاتَ عِرْقٍ أَوِ الْعَقِيقَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ، وَلَكِنْ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ، وَلَمْ يَعْزُهُ إِلَى أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ دُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّهُ يَأْبَى إِلَّا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَهُ.
حافظ محمد فہد
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے عطاء رحمہ اللہ سے مراجعت کی اور میں نے کہا لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات عرق کو میقات مقرر نہیں کیا اور نہ ہی اس وقت مشرق والے تھے۔ عطاء نے کہا اس وقت عراق نہیں تھا اور لیکن مشرق والے تھے۔ عطاء نے کہا ہم نے اسی طرح سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات عرق یا عقیق کو مشرق والوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ مقرر کیا۔ اور فرمایا: اس وقت عراق نہیں تھا اور لیکن مشرق والے تھے۔ انہوں نے اس بات کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے نہیں کی لیکن وہ اس بات کا انکار کرتے ہیں (کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر نہیں کیا) مگر یہ (کہتے ہیں) کہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر کیا۔
حدیث نمبر: 768
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمْ يُوَقِّتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ عِرْقٍ، وَلَمْ يَكُنْ حِينَئِذٍ أَهْلُ مَشْرِقٍ فَوَقَّتَ النَّاسُ ذَاتَ عِرْقٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا كَمَا قَالَ طَاوُسٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حافظ محمد فہد
طاؤوس رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات عرق کو میقات مقرر نہیں کیا اور نہ ہی اس وقت مشرق والے تھے۔ بلکہ یہ لوگوں نے ذات عرق میقات مقرر کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے خیال میں بھی بات اسی طرح ہے جس طرح طاؤوس رحمہ اللہ نے کہی اور بہتر علم اللہ کے پاس ہے۔
حدیث نمبر: 769
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ: أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يُوَقِّتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ شَيْئًا فَاتَّخَذَ النَّاسُ بِحِيَالِ قَرْنٍ ذَاتَ عِرْقٍ. أَخْرَجَ الْأَحَدَ عَشَرَ حَدِيثًا مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
ابو الشعثاء کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق والوں کے لیے کوئی بھی میقات مقرر نہیں کیا یہ تو لوگوں نے قرن کے حساب سے ذات عرق مقرر کر دیا۔