کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: حاکمِ وقت (امام) کا مالِ زکوٰۃ کی حفاظت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 750
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ فِي هَذَا الظَّهْرِ نَاقَةً عَمْيَاءَ، فَقَالَ: أَمِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ أَوْ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ؟ فَقَالَ أَسْلَمُ: مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ، قَالَ: إِنَّ عَلَيْهَا مِيسَمَ الْجِزْيَةِ.
حافظ محمد فہد
اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں اس نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ان اونٹوں میں ایک اندھی اونٹنی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا جزیہ (ٹیکس) کے جانوروں میں سے ہے یا صدقہ (زکوۃ) کے جانوروں میں سے ہے؟ اسلم نے کہا جزیہ (ٹیکس) کے جانوروں میں سے ہے۔ فرمایا: اس پر جزیہ کی نشانی موجود ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الزكاة / حدیث: 750
تخریج حدیث صحيح اخرجه البيهقي 25/7 ۔ وفى المعرفة السنن والآثار له (4043) ، ومالك في الموطأ، الزكاة، باب جزية اهل الكتاب والمجوس۔
حدیث نمبر: 751
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنِ الثِّقَةِ أَحْسَبُهُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَوْ غَيْرَهُ، عَنْ مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا أَنَا مَعَ عُثْمَانَ فِي مَالِهِ بِالْعَالِيَةِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ إِذْ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَكْرَيْنِ وَعَلَى الْأَرْضِ مِثْلُ الْفَرَاشِ مِنَ الْحَرِّ، فَقَالَ: مَا عَلَى هَذَا لَوْ أَقَامَ بِالْمَدِينَةِ حَتَّى يَبْرُدَ، ثُمَّ يَرُوحُ، ثُمَّ دَنَا الرَّجُلُ. فَقَالَ: انْظُرْ مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: أَرَى رَجُلًا مُعَمَّمًا بِرِدَائِهِ يَسُوقُ بَكْرَيْنِ، ثُمَّ دَنَا الرَّجُلُ، فَقَالَ: انْظُرْ فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَامَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْرَجَ رَأْسَهُ مِنَ الْبَابِ فَآذَاهُ نَفْخُ السَّمُومِ فَأَعَادَ رَأْسَهُ حَتَّى حَاذَاهُ، فَقَالَ: مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: بَكْرَانِ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ تَخَلَّفَا، وَقَدْ مُضِيَ بِإِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُلْحِقَهُمَا بِالْحِمَى وَخَشِيتُ أَنْ يَضِيعَا فَيَسْأَلَنِي اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: [ ص: 169 ] يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلُمَّ إِلَى الْمَاءِ وَالظِّلِّ وَنَكْفِيكَ. فَقَالَ: عُدْ إِلَى ظِلِّكَ، فَقَالَ: عِنْدَنَا مَنْ يَكْفِيكَ، فَقَالَ: عُدْ إِلَى ظِلِّكَ وَمَضَى، فَقَالَ عُثْمَانُ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى الْقَوِيِّ الْأَمِينِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا فَعَادَ إِلَيْنَا فَأَلْقَى نَفْسَهُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ، گرمیوں کے دنوں میں ان کے مال کے ساتھ مدینہ کے قریبی آبادیوں میں تھا، جب انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی اونٹ کے دو بچوں کو ہانک رہا ہے اور زمین پر پروانوں کی طرح گرمی کی شدت کی وجہ سے جا رہا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا اس آدمی کو کیا ہے، کیوں نہ یہ مدینہ میں رہا حتی کہ ٹھنڈک ہو جاتی، پھر چلتا۔ پھر وہ آدمی قریب ہوا تو فرمایا: دیکھو یہ کون ہے؟ میں نے کہا، ایک آدمی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپے اونٹ کے بچوں کو ہانک رہا ہے۔ پھر وہ آدمی اور قریب ہو تو انہوں نے پھر کہا: دیکھو! میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے کہا یہ تو امیر المؤمنین ہیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنا سر دروازے سے باہر نکالا تو انہیں گرمی کی لو سے تکلیف پہنچی، اپنا سر واپس داخل کر لیا حتی کہ جب وہ قریب آگئے تو پوچھا، آپ کس لیے اس وقت نکلے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صدقہ کے اونٹوں کے دو بچے پیچھے رہ گئے جبکہ صدقہ کے اونٹ چلے جا چکے ہیں، میں نے چاہا کہ ان کو بھی چراگاہ میں ان سے ملا دوں، میں ڈرا کہیں یہ ضائع نہ ہو جائیں کہ پھر اللہ مجھ سے ان کے متعلق دریافت کرے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے امیر المؤمنین! آؤ ہمارے پانی اور سایہ کی طرف (یعنی پانی پی لو اور سایہ میں آرام کر لو)۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنے سایہ میں ٹھہرے رہو۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے پاس آپ کی ضرورت کی چیزیں ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنے سایہ میں ٹھہرے رہو۔ پھر وہ چلے گئے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو آدمی چاہتا ہے کہ وہ کسی امانت دار، مضبوط آدمی کو دیکھے وہ ان کی طرف دیکھ لے۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ واپس ہماری طرف (سایہ میں) آئے اور سوچ و بچار میں مشغول ہو گئے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الزكاة / حدیث: 751
تخریج حدیث اسناده ضعيف التردد الثقة ولجھالہ ومولی عثمان، اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (3743)۔