کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: وہ سامان، زیورات اور چاندی جن میں زکوٰۃ نہیں ہے (نصاب سے کم ہونے کی صورت میں)
حدیث نمبر: 719
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ فِي الْعَرْضِ زَكَاةٌ إِلَّا أَنْ يُرَادَ بِهِ التِّجَارَةُ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : مال میں اس وقت تک زکوۃ نہیں جب تک تجارت کا ارادہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 720
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَلِي بَنَاتِ أَخِيهَا يَتَامَى فِي حِجْرِهَا، لَهُنَّ الْحُلِيُّ فَلَا تُخْرِجُ مِنْهُ الزَّكَاةَ.
حافظ محمد فہد
قاسم بن محمد سے روایت ہے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ان کے بھائی کی یتیم بیٹیاں ان کے ہاں زیر پرورش تھیں اور ان کے زیورات بھی تھے تو وہ ان سے زکوۃ نہیں نکالتی تھیں۔
حدیث نمبر: 721
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُؤَمَّلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تُحَلِّي بَنَاتِ أَخِيهَا الذَّهَبَ فَكَانَتْ لَا تُخْرِجُ زَكَاتَهُ.
حافظ محمد فہد
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کی بیٹیوں کو سونے کے زیورات پہناتی تھیں اور اس کی زکوۃ نہیں نکالتی تھیں۔
حدیث نمبر: 722
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ عَلَى بَنَاتِهِ وَجَوَارِيهِ الذَّهَبُ ثُمَّ لَا يُخْرِجُ مِنْهُ الزَّكَاةَ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی بیٹیوں اور بچیوں پر سونا (زیورات کی صورت میں) تھا اور وہ اس سے زکوۃ نہیں نکالتے تھے۔
حدیث نمبر: 723
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ جَابِرَ [ ص: 157 ] بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْحُلِيِّ أَفِيهِ الزَّكَاةُ؟ فَقَالَ جَابِرٌ: لَا، فَقَالَ: وَإِنْ كَانَ يَبْلُغُ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَالَ جَابِرٌ: كَثِيرٌ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا ایک آدمی جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہا تھا کیا زیورات پر زکوۃ ہے؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔ اس آدمی نے کہا اگر (زیورات) ایک ہزار دینار تک پہنچ جائیں تو؟ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس سے بھی زیادہ ہوں تو بھی نہیں۔
حدیث نمبر: 724
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ" .
حافظ محمد فہد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 725
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ [ ص: 158 ] أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ" .
حافظ محمد فہد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 726
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ. أَخْرَجَ الثَّمَانِيَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔