حدیث نمبر: 710
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ: أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: مَرَرْتُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَى عُنُقِي آدِمَةٌ أَحْمِلُهَا، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَا تُؤَدِّي زَكَاتَكَ يَا حِمَاسُ؟ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا لِيَ غَيْرُ هَذِهِ الَّتِي عَلَى ظَهْرِي وَآهِبَةٌ فِي الْقَرَظِ، فَقَالَ: ذَاكَ مَالٌ فَضَعْ، قَالَ: فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَحَسَبَهَا فَوَجَدْتُ قَدْ وَجَبَ فِيهَا الزَّكَاةُ، فَأَخَذَ مِنْهَا الزَّكَاةَ.
حافظ محمد فہد
ابو عمرو بن حماس سے روایت ہے، ان کے باپ نے کہا: میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا جبکہ میں اپنی گردن پر چمڑا رکھے ہوئے تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتے اے حماس؟“ حماس کہتے ہیں میں نے کہا: میرے پاس اس جمع کیے ہوئے چمڑے کے تھیلے کے علاوہ جو میری پیٹھ پر ہے کچھ نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ مال ہے، نیچے رکھو۔“ حماس کہتے ہیں: میں نے ان کے سامنے اسے رکھ دیا، انہوں نے اس کا حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہے، پھر انہوں نے اس سے زکوٰۃ لے لی۔
حدیث نمبر: 711
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ، عَنْ أَبِيهِ مِثْلَهُ.
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے ابو عمرو بن حماس اپنے باپ سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 712
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زُرَيْقِ بْنِ حَكِيمٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَيْهِ: أَنِ انْظُرْ مَنْ مَرَّ بِكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَخُذْ مِمَّا ظَهَرَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ مِنَ التِّجَارَاتِ، مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارًا، فَمَا نَقَصَ فَبِحِسَابٍ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ دِينَارًا فَإِنْ نَقَصَتْ ثُلُثَ دِينَارٍ فَدَعْهَا وَلَا تَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
حافظ محمد فہد
زریق بن حکیم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان کی طرف (خط) لکھا کہ جو بھی مسلمانوں کا تجارتی سامان آپ کے پاس سے گزرے تو ان کے تجارتی مالوں سے زکوٰۃ لو۔ ہر چالیس دینار پر ایک دینار ہے۔ اس سے کم ہونے کی صورت میں اسی حساب سے کم زکوٰۃ لینا، یہاں تک کہ 20 دینار تک۔ اگر ثلث دینار کم ہو جائے تو اس کو چھوڑ دو اور اس مالیت سے زکوٰۃ نہ لو۔