حدیث نمبر: 701
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ: أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخَذَ مِنْ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا، وَمِنْ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَأُتِيَ بِمَا دُونَ ذَلِكَ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، وَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا حَتَّى أَلْقَاهُ فَأَسْأَلَهُ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ مُعَاذٌ.
حافظ محمد فہد
طاؤس یمانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے تیس گایوں میں سے ایک سال کا بچھڑا (جو دوسرے میں داخل ہو چکا ہو) لیا اور ہر چالیس پر دو سال کا بچھڑا لیا۔ ان کو اس سے کم (عمر والا) دیا گیا تو انہوں نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا: ”میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے کچھ نہیں سنا (میں اس وقت تک نہیں لوں گا) حتیٰ کہ میں اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر لوں۔“ طاؤس کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ کے (مدینہ) آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔
حدیث نمبر: 702
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ: أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِوَقْصِ الْبَقَرِ فَقَالَ: لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْوَقْصُ مَا لَمْ يَبْلُغِ الْفَرِيضَةَ , أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
حافظ محمد فہد
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس زکوٰۃ کے نصاب سے کم والی گائیں لائی گئیں تو آپ نے فرمایا: ”مجھے نبی ﷺ نے اس کے متعلق کچھ بھی حکم نہیں دیا۔“