کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: اونٹ، بکریوں اور چاندی کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 694
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ أَنَسٍ أَوْ أَنَّ فُلَانَ ابْنَ أَنَسٍ، الشَّافِعِيُّ يَشُكُّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: هَذِهِ الصَّدَقَةُ، ثُمَّ تُرِكَتِ الْغَنَمُ وَغَيْرُهَا، وَكَرِهَهَا النَّاسُ. [ ص: 142 ] بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا فَمَنْ سُئِلَهَا عَلَى وَجْهِهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِهِ. فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ أُنْثَى، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ أُنْثَى، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ. وَإِنْ تَبَايَنَتْ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرِيضَةِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا عَلَيْهِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَإِذَا بَلَغَتْ عَلَيْهِ الْحِقَّةُ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ.
حافظ محمد فہد
انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ”یہ ہے وہ صدقہ (زکوٰۃ کا نصاب ہے)، پھر بکریوں اور ان کے علاوہ کچھ چیزوں کو چھوڑ دیا گیا، اور لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا۔“ یہ زکوٰۃ کا وہ فریضہ ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا۔ اس لیے جو شخص مومنوں سے اس کے مطابق زکوٰۃ مانگے تو انہیں دے دینی چاہیے، اور اگر کوئی اس سے زیادہ مانگے تو ہرگز نہ دے۔ چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ پر ایک بکری دینی ہوگی۔ اگر اونٹوں کی تعداد 25 تک پہنچ جائے تو 25 سے 35 تک، ایک برس کی مادہ اونٹنی (بنت مخاض) واجب ہوگی، اگر ایک برس کی مادہ اونٹنی نہیں تو دو برس کا نر اونٹ (ابن لبون) جو تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہو، واجب ہے۔ جب اونٹوں کی تعداد 36 تک پہنچ جائے تو 36 سے 45 تک دو برس کی مادہ اونٹنی (بنت لبون) واجب ہوگی۔ جب تعداد 46 تک جائے تو 46 سے 60 تک تین برس کی جفتی کے قابل اونٹنی (حقہ) واجب ہے۔ اور جب تعداد 61 تک پہنچ جائے تو 61 سے 75 تک چار برس کی مادہ (جذعہ) واجب ہوگی۔ جب تعداد 76 تک پہنچ جائے تو 76 سے 90 تک دو دو برس کی دو اونٹنیاں (دو بنت لبون) واجب ہوں گی۔ جب تعداد 91 تک پہنچ جائے تو 91 سے 120 تک جفتی کے قابل دو اونٹنیاں (دو حقے) واجب ہوں گی اور جب تعداد 120 سے زیادہ ہو جائے تو ہر 40 پر دو برس کی اونٹنی اور ہر 50 پر تین برس کی اونٹنی واجب ہوگی۔ اگر اونٹوں کی عمریں صدقہ کے فرض میں علیحدہ علیحدہ ہوں تو جس کے اونٹوں کی تعداد جذعہ کے صدقہ کو پہنچ جائے اور اس کے پاس جذعہ نہیں بلکہ حقہ ہے تو اس سے زکوٰۃ میں حقہ کے ساتھ دو بکریاں بھی لے لی جائیں، اگر ان کے دینے میں اسے آسانی ہو ورنہ 20 درہم لے لیے جائیں۔ اور اگر کسی پر زکوٰۃ میں حقہ واجب ہو اور اس کے پاس حقہ نہیں بلکہ جذعہ ہے تو اس سے جذعہ لے کر صدقہ وصول کرنے والا 20 درہم یا دو بکریاں زکوٰۃ دینے والے کو دے دے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الزكاة / حدیث: 694
تخریج حدیث اخرجه البخارى الزكاة، باب العرض في الزكاة (1448) ، (1454)۔
حدیث نمبر: 695
أَخْبَرَنِي عَدَدٌ ثِقَاتٌ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ [ ص: 143 ] عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَى هَذَا لَا يُخَالِفُهُ، إِلَّا أَنِّي أَحْفَظُ فِيهِ: وَلَا يُعْطِي شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا لَا أَحْفَظُ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا عَلَيْهِ قَالَ: وَأَحْسَبُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: دَفَعَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ كِتَابَ الصَّدَقَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ هَذَا الْمَعْنَى كَمَا وَصَفْتُ.
حافظ محمد فہد
انس رضی اللہ عنہ سے اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی بیان فرماتے ہے، مگر میں نے اس میں یہ یاد کیا ہے کہ: ”زکوٰۃ دینے والا دو بکریاں یا 20 درہم نہیں دے گا، مجھے یہ یاد نہیں کہ اگر ان کے دینے میں اسے آسانی ہو۔“ اور میرا خیال ہے کہ حماد کی سند سے مروی حدیث جو انس رضی اللہ عنہ سے ہے اس میں انہوں نے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے منقول صدقہ کی کتاب مجھے دی، پھر یہی معنی ذکر کیے جس طرح کہ میں نے بیان کیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الزكاة / حدیث: 695
تخریج حدیث اخرجه البخارى، الزكاة، باب من بلغت عنده صدقة بنت مخاض وليست عنده (1453)۔
حدیث نمبر: 696
أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ هَذَا كِتَابُ الصَّدَقَاتِ فِيهِ: فِي كُلِّ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَدُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى سِتِّينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ جَذَعَةٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى تِسْعِينَ ابْنَتَا لَبُونٍ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ، فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ. [ ص: 144 ] وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى مِائَتَيْنِ شَاتَانِ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ. وَلَا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُعُوَارٍ، وَلَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ إِذَا بَلَغَتْ رِقَةُ أَحَدِهُمْ خَمْسَ أَوَاقٍ. هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي كَانَ يَأْخُذُ عَلَيْهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: بِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ صدقوں (کی تفصیل) کی کتاب ہے اور اس میں ہے کہ ہر چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ایک بکری ہے اور ہر پانچ پر ایک بکری اور اس سے اوپر پینتیس تک ایک برس کی اونٹنی واجب ہے۔ اگر ایک برس کی اونٹنی نہیں تو وہ دو برس کا نر اونٹ ہے جو تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہو اور اس سے اوپر پینتالیس تک دو برس کی وہ اونٹنی ہے جو تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہو۔ اور اس سے اوپر ساٹھ تک تین برس کی وہ اونٹنی ہے جو جفتی کے قابل ہو۔ اور اس سے اوپر پچھتر تک چار برس کی اونٹنی ہے۔ اور اس سے اوپر نوے کی تعداد تک دو دو برس کی دو اونٹنیاں ہیں۔ اور اس سے اوپر ایک سو بیس کی تعداد تک تین برس کی وہ دو اونٹنیاں ہیں جو جفتی کے قابل ہوں۔ اور جب تعداد اس سے زیادہ ہو جائے تو ہر چالیس پر دو برس کی اونٹنی اور ہر پچاس پر تین برس کی اونٹنی واجب ہوگی۔ اور (جنگل یا میدان وغیرہ میں) چرنے والی بکریوں کی زکوٰۃ اس طرح ہے کہ جب ان کی تعداد چالیس سے ایک سو بیس تک ہو تو اس میں ایک بکری واجب ہے۔ اس سے اوپر دو سو تک دو بکریاں ہیں اور اس سے اوپر تین سو تک تین بکریاں واجب ہیں، اور جب تعداد اس سے زیادہ ہو جائے تو ہر سو پر ایک بکری واجب ہوگی۔ اور زکوٰۃ میں بوڑھی، عیب والی، اور نر (بکرا) نہ دیا جائے مگر یہ کہ صدقہ لینے والا مناسب سمجھے تو لے لے۔ اور زکوٰۃ (کی زیادتی) کے خوف سے جدا جدا مال کو یکجا اور یکجا مال کو جدا جدا نہ کیا جائے۔ اور جب دو شریک ہوں تو وہ اپنا اپنا حساب برابر کر لیں، اور جب چاندی پانچ اوقیہ تک پہنچ جائے تو اس میں ربع العشر (اڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ) زکوٰۃ واجب ہے۔ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی کتاب کے اس نسخہ کی عبارت ہے جس کے مطابق وہ لوگوں سے زکوٰۃ لیتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہم اس سارے کو لیں گے (یعنی ہمارا یہی مذہب ہے)۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الزكاة / حدیث: 696
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البيهقي : 674 ۔ وفي المعرفة السنن والآثار له (2225)۔
حدیث نمبر: 697
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أَدْرِي أَدْخَلَ ابْنُ عُمَرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ أَمْ لَا؟ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ مِثْلَ هَذَا الْمَعْنَى لَا يُخَالِفُهُ، وَلَا أَعْلَمُهُ، بَلْ لَا أَشُكُّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلَّا أَنَّهُ حَدَّثَنِي بِجَمِيعِ الْحَدِيثِ فِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ وَالْخُلَطَاءِ وَالرِّقَةِ هَكَذَا إِلَّا أَنِّي لَا أَحْفَظُ إِلَّا الْإِبِلَ فِي حَدِيثِهِ.
حافظ محمد فہد
سالم بن عبداللہ اپنے باپ سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ سفیان بن حسین کے واسطہ سے حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ سے عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کی یا نہیں؟ اونٹوں کی زکوٰۃ میں انہیں معانی کی طرح مروی ہے جو اس کے خلاف نہیں، اور میں نہیں جانتا بلکہ اگر اللہ نے چاہا تو مجھے کوئی شک نہیں مگر یہ کہ انہوں نے مجھے ساری حدیث بکریوں، آپس میں شرکاء اور چاندی کے متعلق اسی طرح بیان کی، مگر یہ کہ میں ان کی حدیث میں صرف اونٹوں کا یاد رکھ سکا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الزكاة / حدیث: 697
تخریج حدیث اخرجه ابوداود ، الزكاة، باب في زكاة السائمة (1568) والترمذى الزكاة، باب ماجاء في زكاة الابل والغن (621) ۔ وقال ”حسن“ وصححه ابن خزيمة (2267) ۔ والحاكم 93،94/11 ، 392۔
حدیث نمبر: 698
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى الطَّائِفِ وَمَخَالِيفِهَا، فَخَرَجَ مُصَدِّقًا فَاعْتَدَّ عَلَيْهِمُ الْغَذِيَّ، وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهُمْ، فَقَالُوا لَهُ: إِنْ كُنْتَ مُعْتَدًّا عَلَيْنَا بِالْغَذِيِّ فَخُذْهُ مِنَّا، فَأَمْسَكَ حَتَّى لَقِيَ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ: اعْلَمْ أَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَظْلِمُهُمْ تَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالْغَذِيِّ وَلَا تَأْخُذُهُ مِنْهُمْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَاعْتَدَّ عَلَيْهِمْ بِالْغَذِيِّ حَتَّى بِالسَّخْلَةِ يَرُوحُ بِهَا الرَّاعِي عَلَى يَدِهِ وَقُلْ لَهُمْ: لَا آخُذُ مِنْكُمُ الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ، وَلَا ذَاتَ الدَّرِّ، وَلَا الشَّاةَ الْأَكُولَةَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَخُذِ الْعَنَاقَ وَالْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ فَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غَذِيِّ الْمَالِ وَخِيَارِهِ.
حافظ محمد فہد
بشر بن عاصم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان بن عبد اللہ کو طائف اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں عامل (زکوٰۃ لینے والا) مقرر کیا، وہ صدقہ (زکوٰۃ) لینے نکلے تو چھوٹے جانوروں (بچوں) کو بھی (بڑوں کے ساتھ) شمار کیا۔ جبکہ وہ چھوٹے بچے ان سے زکوٰۃ میں نہ لیتے تو انہوں نے کہا: ”اگر آپ ان چھوٹوں کو شمار کرتے ہیں تو ان کو زکوٰۃ کے طور پر ہم سے وصول بھی کریں۔“ وہ رک گئے (زکوٰۃ نہ لی) حتیٰ کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”آپ جان لیں کہ وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ان کے چھوٹے جانوروں کو شمار کرتے ہیں اور ان کی زکوٰۃ نہ لے کر آپ ان پر ظلم کرتے ہیں۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”ان کے جانوروں کے چھوٹے بچے بھی شمار کرو حتیٰ کہ اس بچے کو بھی (جو اپنے پیروں پر چل نہیں سکتا) جسے گڈریا اپنے ہاتھ پر اٹھا کر لے جاتا ہے اور ان سے کہو، میں تم سے بچوں کو دودھ پلانے والی، نہ وضع حمل کے قریب، اور نہ دودھ والی، اور نہ ہی ذبح کے لیے موٹی کی ہوئی اور نہ ہی بکریوں سے جفتی کرنے والا بکرا لوں گا۔ اور ان سے عناق، جذعہ اور دو برس کا جانور لو اور یہ خراب اور عمدہ مال میں سے اوسط درجہ کا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الزكاة / حدیث: 698
تخریج حدیث اخرجه مالك في الموطا الزكاة، باب ماجاء فيما يعتدبه من السخل في الصدقة، والبيهقي : 4 وعبد الرزاق (6806) ، (1808) - ولبن ابي شيبة (9985)۔
حدیث نمبر: 699
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ رَجُلٍ سَمَّاهُ ابْنَ سَعْدٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، عَنْ سَعْدٍ أَخِي بَنِي عَدِيٍّ، قَالَ: جَاءَنِي [ ص: 146 ] رَجُلَانِ فَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا نُصَدِّقُ أَمْوَالَ النَّاسِ. قَالَ: فَأَخْرَجْتُ لَهُمَا شَاةً مَاخِضًا أَفْضَلَ مَا وَجَدْتُ فَرَدَّاهَا عَلَيَّ، وَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَأْخُذَ الشَّاةَ الْحُبْلَى، قَالَ: فَأَعْطَيْتُهُمَا شَاةً مِنْ وَسَطِ الْغَنَمِ فَأَخَذَاهَا.
حافظ محمد فہد
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں کہ میرے پاس دو آدمی آئے اور انہوں نے کہا: ”ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں سے زکوٰۃ وصول کریں۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے ان کے لیے ایک حاملہ بکری نکالی جو میرے پاس بکریوں میں سے سب سے اچھی تھی، تو انہوں نے لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں (زکوٰۃ میں) حاملہ بکری لینے سے منع فرمایا ہے۔“ سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے انہیں ایک درمیانے درجے کی بکری دی تو انہوں نے لے لی۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الزكاة / حدیث: 699
تخریج حدیث اخرجه ابوداود، الزكاة، باب في زكاة السائمة (1581) والنسائى الزكاة، باب اعطاء السيد المال بغير اختيار المصدق (2464)، (2465)۔
حدیث نمبر: 700
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: مُرَّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِغَنَمٍ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَرَأَى فِيهَا شَاةً حَافِلًا ذَاتَ ضَرْعٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟ فَقَالُوا: شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ. فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَعْطَى هَذِهِ أَهْلُهَا وَهُمْ طَائِعُونَ، لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ، لَا تَأْخُذُوا حَزَرَاتِ الْمُسْلِمِينَ نَكِّبُوا عَنِ الطَّعَامِ. أَخْرَجَ السَّبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
حافظ محمد فہد
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے زکوٰۃ کی بکریاں گزریں تو انہوں نے ان میں سے ایک بکری دیکھی جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ بکری کیسی ہے؟“ تو لوگوں نے کہا: ”صدقہ کی بکریوں میں سے ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے گھر والوں نے اسے خوشی سے نہیں دیا ہوگا۔ تم لوگوں کو آزمائش میں نہ ڈالو، مسلمانوں کے بہترین مال نہ لو، اور ان کے کھانے (دودھ دینے والے جانوروں) سے باز رہو۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الزكاة / حدیث: 700
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البيهقي : 4 / 158 ۔ وفي المعرفة السنن والآثار له (2394) وابن ابي شيبة (9917)۔