کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: زکوٰۃ کے وجوب کا وقت اور تحصیلِ زکوٰۃ کرنے والے کی بات کی قبولیت
حدیث نمبر: 691
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَا تَجِبُ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”مال میں زکوٰۃ اس وقت تک واجب نہیں جب تک کہ اس پر ایک سال نہ گزر جائے۔“
حدیث نمبر: 692
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ، فَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيُؤَدِّ دَيْنَهُ حَتَّى تَخْلُصَ أَمْوَالُكُمْ فَتُؤَدُّونَ مِنْهَا الزَّكَاةَ.
حافظ محمد فہد
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”یہ تمہاری زکوٰۃ کا مہینہ ہے، جس پر قرض ہے وہ ادائیگی کر دے یہاں تک کہ تمہارا خالص مال رہ جائے، پھر تم اس سے زکوٰۃ ادا کرو۔“
حدیث نمبر: 693
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَائِشَةَ ابْنَةِ قُدَامَةَ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ: كُنْتُ إِذَا جِئْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَقْبِضُ مِنْهُ عَطَائِي، سَأَلَنِي: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ مَالٍ وَجَبَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ؟ فَإِنْ قُلْتُ: نَعَمْ. أَخَذَ مِنْ عَطَائِي زَكَاةَ ذَلِكَ الْمَالِ، فَإِنْ قُلْتُ: لَا. دَفَعَ إِلَيَّ عَطَائِي. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
حافظ محمد فہد
قدامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی تنخواہ وصول کرنے کے لیے آتا تو وہ مجھ سے پوچھتے: ”کیا تیرے پاس موجود مال پر زکوٰۃ واجب ہے؟“ اگر میں ہاں کہتا تو میری تنخواہ سے زکوٰۃ وصول فرما لیتے اور اگر میں ناں کہتا تو میری تنخواہ مجھے دے دیتے۔