کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: رمضان میں جماع کی وجہ سے روزہ توڑنے، اس کے کفارے اور حاملہ/مرضعہ کے روزہ چھوڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 651
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ: "خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ" . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ ثُمَّ قَالَ: "كُلْهُ" . قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَكَانَ فِطْرُهُ بِجِمَاعٍ.
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں (جماع سے) روزہ توڑ دیا، تو نبی ﷺ نے اسے ایک گردن آزاد کرنے یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا۔ اس آدمی نے کہا: ”میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔“ آپ ﷺ کی خدمت میں کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا پیش کیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے لو اور صدقہ کردو۔“ اس آدمی نے کہا : مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ اس طرح ہنسے کہ آپ ﷺ کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا، (جاؤ اور) اسے خود ہی کھا لو۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”اس کا روزہ جماع کرنے کی وجہ سے ٹوٹا تھا۔“
حدیث نمبر: 652
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، وَيَضْرِبُ نَحْرَهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَعْتِقَ رَقَبَةً" ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً" ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: "فَاجْلِسْ" . قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ: خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ مِنِّي، قَالَ: "فَكُلْهُ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ" . قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، وہ اپنے بال نوچ رہا تھا اور اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا، اور کہہ رہا تھا : اور اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا اور کہہ رہا تھا دوری نے ہلاک کر دیا، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میں نے رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔“ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اونٹ کی قربانی کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا، بیٹھ جا۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں اپنے آپ سے بڑھ کر کسی کو محتاج نہیں پاتا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کھاؤ، اور اس (جماع والے) دن کے بدلے کسی اور دن روزہ رکھو۔“ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا: ”اس تھیلے میں کتنی کھجوریں تھیں؟“ تو انہوں نے جواب دیا کہ 15 سے 20 صاع کے درمیان تھیں۔
حدیث نمبر: 653
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا، قَالَ: تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الصِّيَامِ، وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حاملہ عورت کے متعلق پوچھا گیا کہ جب اسے بچے کا خدشہ ہو تو کیا کرے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روزہ نہ رکھے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو گندم کا ایک مد کھلا دے۔