کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: زوال سے قبل (دن چڑھے) نفلی روزے کی نیت کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 642
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي أَهْلَهُ حِينَ يَنْتَصِفُ النَّهَارُ أَوْ قَبْلَهُ فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ غَدَاءٍ؟ فَيَجِدُهُ أَوْ لَا يَجِدُهُ فَيَقُولُ: لَأَصُومَنَّ هَذَا الْيَوْمَ فَيَصُومُهُ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا وَبَلَغَ ذَلِكَ الْحِينَ وَهُوَ مُفْطِرٌ.
حافظ محمد فہد
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اپنے گھر والوں کے پاس اس وقت تشریف لاتے جب آدھا دن گزر جاتا یا اس سے (کچھ دیر) پہلے اور فرماتے: ”کیا صبح کا کھانا ہے؟“ اگر ہوتا یا نہ ہوتا تو کہتے: ”میں آج کے دن روزہ رکھوں گا“ پھر وہ روزہ رکھتے، اگر روزہ سے نہ ہوتے اور اس وقت تشریف لاتے تو بغیر روزہ کے ہی رہتے۔
حدیث نمبر: 643
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ، وَبَلَغَنَا: أَنَّهُ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُصْبِحُ مُفْطِرًا حَتَّى الضُّحَى أَوْ بَعْدَهُ، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ وَجَدَ غَدَاءً أَوْ لَمْ يَجِدْهُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ.
حافظ محمد فہد
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اطلاع ملی کہ وہ اسی طرح کرتے تھے کہ جب وہ بغیر روزہ کے صبح کرتے یہاں تک کہ چاشت یا اس کے بعد اور شاید کہ انہوں نے صبح کا کھانا پایا ہو یا نہ پایا ہو۔