حدیث نمبر: 634
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ ابْنَةِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّا خَبَّأْنَا لَكَ حَيْسًا، فَقَالَ: "أَمَا إِنِّي كُنْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ وَلَكِنْ قَرِّبِيهِ" .
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے کہا ہم نے آپ کے لیے حیس رکھا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں روزے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن تم قریب کرو۔“ (لاؤ کھا لیتے ہیں۔)
حدیث نمبر: 635
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّا خَبَّأْنَا لَكَ حَيْسًا، فَقَالَ: "أَمَا إِنِّي كُنْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ وَلَكِنْ قَرِّبِيهِ" .
حافظ محمد فہد
مومنوں کی ماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے، میں نے کہا ہم نے آپ کے لیے حیس رکھا ہوا ہے آپ نے فرمایا: ”میں روزے کا ارادہ رکھتا تھا، لیکن قریب کرو۔“
حدیث نمبر: 636
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَيْتُ عَنْ حَفْصَةَ، وَعَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا أَصْبَحَتَا صَائِمَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَهُمَا شَيْءٌ، فَأَفْطَرَتَا، فَذَكَرَتَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "صُومَا يَوْمًا مَكَانَهُ" . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ لَهُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ؟ فَقَالَ: لَا إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ رَجُلٌ بِبَابِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ أَوْ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ.
حافظ محمد فہد
سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ ان دونوں (حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما ) نے صبح اس حالت میں کی کہ دونوں روزہ سے تھیں۔ دن کے وقت ان دونوں کو کوئی چیز ہدیہ کی گئی تو ان دونوں نے روزہ افطار کیا اور یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں کسی دوسرے دن آج کے روزہ کی قضا کرو۔“ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے کہا : کیا آپ نے یہ بات عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے سنی؟ تو انہوں نے کہا : نہیں بلکہ مجھے یہ بات عبدالملک بن مروان کے دروازے پر کھڑے ایک آدمی نے یا عبدالملک بن مروان کی مجلس سے ایک آدمی نے بتلائی ہے۔
حدیث نمبر: 637
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُفْطِرَ الْإِنْسَانُ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ، وَيَضْرِبُ لِذَلِكَ أَمْثَالًا: رَجُلٌ طَافَ سَبْعًا وَلَمْ يُوَفِّهِ فَلَهُ مَا احْتَسَبَ، أَوْ صَلَّى رَكْعَةً وَلَمْ يُصَلِّ أُخْرَى فَلَهُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ.
حافظ محمد فہد
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہا کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی انسان نفلی روزہ افطار کر دے اور اس کے لیے مثالیں بیان کرتے تھے کہ : ”ایک آدمی نے سات چکر کاٹے اور اسے پورا نہیں کیا تو اس کے لیے اتنا ہی ثواب ہے جتنی اس نے نیت کی، یا کسی نے ایک رکعت پڑھی دوسری نہیں پڑھی، تو اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے جتنی اس نے ثواب کی نیت کی۔“
حدیث نمبر: 638
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِالْإِفْطَارِ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ بَأْسًا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الصِّيَامِ، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نفلی روزے کو افطار کرنے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے۔