حدیث نمبر: 628
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ عَاشُورَاءَ وَيَأْمُرُ بِصِيَامِهِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس محرم کو روزہ رکھتے اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 629
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ عاشوراء کے دن زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے، اور نبی ﷺ بھی روزہ رکھتے، جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے، تو بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ کا حکم دیا، جب رمضان کی فرضیت ہوئی تو یہ (رمضان کے روزے) فرضی تھے اور آپ نے اس (یوم عاشوراء کے روزہ) کو چھوڑ دیا، اور فرمایا: ”جس کا جی چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے روزہ نہ رکھے۔“
حدیث نمبر: 630
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَخْرَجَ مِنْ كُمِّهِ قَبْضَةً مِنْ شَعَرٍ يَقُولُ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ يَقُولُ: "إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيَصُمْ" .
حافظ محمد فہد
حمید بن عبد الرحمن روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے عاشوراء کے دن سنا جبکہ آپ منبر رسول ﷺ پر تشریف فرما تھے۔ اور آپ نے اپنی آستین سے بالوں کی ایک مٹھی نکالی اور آپ کہہ رہے تھے اے مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ وہ اس قسم کے کاموں سے منع کرتے اور فرماتے، ”بے شک بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیے۔“ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی دن کے متعلق سنا آپ نے فرمایا: ”میں آج کے دن روزہ سے ہوں جو تم میں سے چاہے روزہ رکھے۔“
حدیث نمبر: 631
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِمِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ: "لَمْ يَكْتُبِ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، فَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ" .
حافظ محمد فہد
حمید بن عبد الرحمن سے روایت ہے انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے جس سال انہوں نے حج کیا سنا جبکہ وہ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے۔ اے مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آج کے دن یوم عاشوراء کے متعلق سنا : ”اس کا روزہ اللہ نے تم پر فرض نہیں کیا، البتہ میں روزے سے ہوں، تم میں سے جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔“
حدیث نمبر: 632
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنِ اللَّيْثِ، يَعْنِي: ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ كَرِهَهُ فَلْيَدَعْهُ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس یوم عاشوراء کے روزہ کا ذکر کیا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جاہلیت والے اس دن روزہ رکھتے تھے، تم میں سے جو کوئی پسند کرتا ہے کہ اس دن روزہ رکھے وہ رکھ لے اور جو نا پسند کرتا ہے وہ چھوڑ دے۔“
حدیث نمبر: 633
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ: أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى صِيَامَهُ عَلَى الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ، يَعْنِي: يَوْمَ عَاشُورَاءَ. أَخْرَجَ السِّتَّةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ یوم عاشوراء کے علاوہ کسی اور دن خاص طور پر ارادہ فرما کر روزہ رکھتے ہوں۔