کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: دورانِ سفر روزہ چھوڑنے (افطار کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 617
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرِهِ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا حِينَ صُمْتَ فَدَعَا بِإِنَاءٍ وَفِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ وَأَمَرَ مَنْ بَيْنَ يَدَيْهِ أَنْ يَحْسِبُوا، فَلَمَّا حَبَسُوا وَلَحِقَ مَنْ وَرَاءَهُ رَفَعَ الْإِنَاءَ إِلَى فِيهِ فَشَرِبَ. فِي حَدِيثِهِمَا أَوْ حَدِيثِ غَيْرِهِمَا وَذَلِكَ بَعْدَ الْعَصْرِ.
حافظ محمد فہد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے سال رمضان کے مہینے میں مکہ کی طرف نکلے تو روزہ رکھا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ نہ رکھیں، آپ ﷺ سے کہا گیا، جب آپ نے روزہ رکھا تو لوگوں نے بھی روزہ رکھا، آپ ﷺ نے ایک پانی کا برتن منگوایا، اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا اور سامنے والوں کو روزہ افطار کرنے کا کہا، جب انہوں نے روزہ افطار کر لیا اور ان کے ساتھ والے بھی افطار کر چکے تو آپ ﷺ نے برتن اٹھا کر اپنے منہ کو لگایا اور پانی پیا۔ ان دونوں کی حدیث یا ان کے علاوہ کسی اور کی حدیث میں ہے کہ یہ عصر کے بعد کی بات ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصيام / حدیث: 617
تخریج حدیث أخرجه مسلم، الصيام، باب جواز الصوم والفطر في شهر رمضان للمسافر في غير معصية (1114).
حدیث نمبر: 618
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى كَانَ بِكُرَاعِ الْغَمِيمِ وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ رَفَعَ إِنَاءً فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ، فَحَبَسَ مَنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَدْرَكَهُ مَنْ وَرَاءَهُ ثُمَّ شَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ.
حافظ محمد فہد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مدینہ سے نکلے حتیٰ کہ جب ”کراع الغمیم“ مقام پر پہنچے، تو آپ ﷺ روزے سے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے ایک پانی کا برتن بلند کیا اور اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا جبکہ آپ ﷺ اونٹنی پر تھے، آپ کے آگے پیچھے والوں نے روزہ افطار کیا پھر آپ نے پانی پیا اور لوگ دیکھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصيام / حدیث: 618
تخریج حدیث صحيح اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (2515) ۔ والحمیدی (1289)۔
حدیث نمبر: 619
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ مَعَهُ، وَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالْأَحْدَثِ فَالْأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ والے سال رمضان میں نکلے، آپ ﷺ نے روزہ رکھا حتیٰ کہ ”کرید“ مقام پر پہنچ گئے، تو آپ ﷺ نے افطار کر دیا اور لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ افطار کر دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی نئی سے نئی بات کو لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصيام / حدیث: 619
تخریج حدیث اخرجه البخاري، الصوم، باب اذا صام اياما من رمضان ثم سافر (1944) ومسلم، الصيام، باب جواز الصوم والفطر في شهر رمضان للمسلفي الخ (1113)۔
حدیث نمبر: 620
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ، وَقَالَ: "تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ" ، وَصَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، يَعْنِي: ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي: لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ، فَقِيلَ: [ ص: 106 ] يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ طَائِفَةً مِنَ النَّاسِ صَامُوا حِينَ صُمْتَ، فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ.
حافظ محمد فہد
ابوبکر بن عبدالرحمن رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے سال سفر میں لوگوں کو روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اپنے دشمن کے مقابلہ میں قوت پیدا کرو۔“ اور نبی ﷺ نے خود روزہ رکھا، ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں جس صحابی نے مجھے بیان کیا اس نے کہا میں نے نبی ﷺ کو ”عرج“ مقام پر دیکھا کہ آپ پیاس یا گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر پانی ڈال رہے تھے۔ آپ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں میں سے ایک گروہ نے اس وقت روزہ رکھا جب آپ نے روزہ رکھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرید مقام پر پہنچے تو آپ نے پیالہ منگوایا اور اس سے پانی پیا، تو لوگوں نے بھی روزہ افطار کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصيام / حدیث: 620
تخریج حدیث اخرجه ابوداود، الصيام، باب الصائم يصب عليه الماء من العطش ويبالغ في الاستنشاق (2365) ۔ واحمد : 3765475 ۔ والبيهقي: 4 / 242 - وصححه الحاكم: (1/ 432)۔
حدیث نمبر: 621
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ، فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا، فَقَالَ: "أُولَئِكَ الْعُصَاةُ" .
حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے، آپ ﷺ نے روزہ رکھا حتیٰ کہ ”کراع الغمیم“ مقام پر پہنچ گئے، لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ روزہ رکھا ہوا تھا، آپ ﷺ سے کہا گیا کہ لوگوں پر روزہ مشکل ہو گیا ہے، آپ ﷺ نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا، آپ ﷺ نے پیا اور لوگ دیکھ رہے تھے، بعض نے روزہ افطار کر دیا اور بعض نے روزہ رکھا، آپ ﷺ کو اطلاع ہوئی کہ بعض لوگ روزے سے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نافرمان ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصيام / حدیث: 621
تخریج حدیث أخرجه مسلم، الصيام، باب جواز الصوم والفطر في شهر رمضان للمسافر في غير معصية (1114).
حدیث نمبر: 622
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي حَدِيثِ الثِّقَةِ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَقَالَ: "تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ" ، فَقِيلَ: إِنَّ النَّاسَ أَبَوْا أَنْ يُفْطِرُوا حِينَ صُمْتَ فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے، اور لوگوں کو روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اپنے دشمن کے مقابلہ میں قوت بناؤ“۔ آپ سے کہا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ افطار کرنے سے انکار کر دیا جب آپ نے روزہ رکھا، تو آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اس سے پانی پیا۔ پھر آگے حدیث لمبی بیان کی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الصيام / حدیث: 622
تخریج حدیث أخرجه مسلم، الصيام، باب جواز الصوم والفطر في شهر رمضان للمسافر في غير معصية (1114).