حدیث نمبر: 538
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ، وَإِلَى الصَّلَاةِ" .
حافظ محمد فہد
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ سے روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ جس دن رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن لگا، لوگوں نے کہا: سورج گرہن ابراہیم کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ جس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو گرہن کسی کی موت وحیات کی وجہ سے نہیں لگتا، جب تم یہ (گرہن) دیکھو تو اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف جلدی کرو۔“
حدیث نمبر: 539
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَكَى ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ صَلَاتَهُ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ" .
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں، سورج کو گرہن لگ گیا تو نبی ﷺ نے نماز پڑھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ کی نماز دو رکعتیں تھی اور ہر رکعت میں دو رکوع تھے پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا، اور جب تم ان کی یہ حالت دیکھو تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرو۔“
حدیث نمبر: 540
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
حافظ محمد فہد
عروہ سے روایت ہے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔
حدیث نمبر: 541
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَكَتْ أَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ سورج کو گرہن لگا تو نبی ﷺ نے دو رکعتیں نماز پڑھی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
حدیث نمبر: 542
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ.
حافظ محمد فہد
کثیر بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن میں دو رکعتیں نماز پڑھی، اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
حدیث نمبر: 543
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا يَقُولُ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي صِفَةِ زَمْزَمَ سِتَّ رَكَعَاتٍ ثُمَّ أَرْبَعَ سَجَدَاتٍ.
حافظ محمد فہد
طاووس بیان کرتے ہیں کہ سورج گرہن لگ گیا ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی جس میں چھ رکوع اور چار سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 544
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَوَصَفَتْ صَلَاتَهُ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی نماز کا طریقہ بیان کیا کہ آپ نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
حدیث نمبر: 545
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 546
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُهَيْلِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حافظ محمد فہد
ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ بھی نبی ﷺ سے اسی طرح بیان فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 547
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرٍو أَوْ صَفْوَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى عَلَى ظَهْرِ زَمْزَمَ لِخُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن صفوان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے دو رکعتیں سورج اور چاند گرہن کی صورت میں پڑھیں اور ہر رکعت میں دو رکوع تھے۔
حدیث نمبر: 548
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ [ ص: 74 ] عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْقَمَرَ كُسِفَ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: إِنَّمَا صَلَّيْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي. وَقَالَ: إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا خَاسِفًا فَلْيَكُنْ فَزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى.
حافظ محمد فہد
حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ چاند گرہن ہوگیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بصرہ میں تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نکلے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔ پھر سوار ہو کر خطبہ دیا تو ارشاد فرمایا: ”بے شک میں نے اس طرح نماز پڑھی جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ پڑھتے تھے۔“ اور کہا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ ان کو گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا، جب تم ان میں گرہن دیکھو تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف جلدی کرنی چاہیے۔“
حدیث نمبر: 549
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، قَالَ: نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ. قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ. فَقَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آتِيَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ" ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ فِي مَقَامِكَ شَيْئًا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَأَنَّكَ تَكَعْكَعْتَ. قَالَ: "إِنِّي رَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" ، قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "بِكُفْرِهِنَّ" ، قِيلَ: [ ص: 75 ] أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ .
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگ گیا، رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی اور لوگ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے لمبا قیام کیا، فرمایا: سورۃ البقرہ کی تلاوت کے برابر، فرمایا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر کھڑے ہوئے تو قیام بھی لمبا کیا لیکن پہلے قیام سے کم، پھر لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا مگر پہلے قیام سے کم، پھر لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا۔ پھر آخر کار سلام پھیر دیا تو (اس دوران) سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو گرہن نہ کسی کی موت سے لگتا ہے اور نہ ہی زندگی سے، جب تم ان کو (گرہن میں) دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو“ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے دیکھا کہ (نماز میں) آپ اپنی جگہ سے آگے بڑھے اور پھر پیچھے ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی یا مجھے دکھائی گئی، اور اس کا خوشہ توڑنا چاہا تھا، اگر میں اسے توڑ لیتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے، اور میں نے جہنم دیکھی یا مجھے دکھائی گئی۔ اور میں نے اس سے بھیانک منظر نہیں دیکھا، میں نے اس میں عورتیں زیادہ ہیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: اس کی کیا وجہ ہے اے اللہ کے رسول ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے کفر (انکار) کی وجہ سے۔“ کہا گیا: کیا اللہ کا کفر (انکار) کرتی ہیں؟ فرمایا: ”شوہر کی ناشکری اور احسان فراموشی کی وجہ سے۔ زندگی بھر تم کسی عورت کے ساتھ حسن سلوک کرو، لیکن کبھی اگر کوئی خلاف مزاج بات آگئی تو فوراً کہے گی، میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔“
حدیث نمبر: 550
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ الْقَمَرَ كُسِفَ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: إِنَّمَا صَلَّيْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَقَالَ: إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا خَاسِفًا فَلْيَكُنْ فَزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ.
حافظ محمد فہد
حسن بصری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ چاند گرہن ہو گیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ بصرہ میں تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نکلے اور ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، ہر رکعت میں دو رکوع کیے پھر سوار ہو کر ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: بے شک میں نے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے دیکھا، اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں گرہن کسی کی موت وحیات کی وجہ سے نہیں لگتا، جب تم ان میں کچھ بھی گرہن دیکھو تو تمہیں اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 551
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الشَّمْسَ كُسِفَتْ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَصَفْتُ صَلَاتَهُ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ سورج کو گرہن ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی، انہوں نے بیان کیا کہ آپ کی نماز دو رکعتیں تھی اور ہر رکعت میں دو رکوع تھے۔
حدیث نمبر: 552
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 553
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُهَيْلِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثِلْهِ. أَخْرَجَ السِّتَّةَ الْأَحَادِيثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَإِلَى آخِرِ الثَّانِي عَشَرَ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسَ عَشَرَ مِنْ كِتَابِ السَّبْقِ وَالرَّمْيِ وَالْقَسَامَةِ وَالْكُسُوفِ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔