کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: عید گاہ میں نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں (نفل) نماز نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 480
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ بِالْمُصَلَّى لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا شَيْئًا ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ قَائِمًا، وَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَتَصَدَّقْنَ بِالْقُرْطِ وَأَشْبَاهِهِ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عیدین کے دن عید گاہ میں نماز پڑھی، نہ پہلے کوئی نماز پڑھی نہ بعد میں، پھر عورتوں کے پاس آئے اور انہیں کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا اور صدقہ کا حکم دیا، ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، عورتوں نے اپنی بالیاں وغیرہ صدقہ کیں۔
حدیث نمبر: 481
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ غَدَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ إِلَى الْمُصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَ الْعِيدِ وَلَا بَعْدَهُ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ صبح کے وقت عید کے دن نبی ﷺ کے ساتھ عید گاہ کی طرف گئے، پھر اپنے گھر واپس آئے اور نہ بعد میں نماز پڑھی اور نہ ہی پہلے نماز ادا کی۔
حدیث نمبر: 482
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَ الْعِيدِ وَلَا بَعْدَهُ.
حافظ محمد فہد
عبد الملک بن کعب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔
حدیث نمبر: 483
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى لَا نُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى نَأْتِيَ الْمُصَلَّى، وَإِذَا رَجَعْنَا مَرَرْنَا بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّيْنَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے زمانے میں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن مسجد میں (نماز فجر کے بعد) نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ عید گاہ آتے، اور جب عید گاہ سے واپس لوٹتے تو مسجد کے پاس سے گزرتے اور اس میں نماز پڑھتے۔
حدیث نمبر: 484
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ [ ص: 47 ] وَلَا بَعْدَهَا. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ، وَالْخَامِسَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر کے دن نہ نماز عید سے پہلے کوئی نماز پڑھتے اور نہ بعد میں۔