حدیث نمبر: 474
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْدُو يَوْمَ الْعِيدِ إِلَى الْمُصَلَّى مِنَ الطَّرِيقِ الْأَعْظَمِ، فَإِذَا رَجَعَ رَجَعَ مِنَ الطَّرِيقِ الْأُخْرَى عَلَى دَارِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ.
حافظ محمد فہد
مطلب بن عبد اللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عید کے دن صبح کو عید گاہ کی طرف ایک بڑے راستے سے جاتے، اور جب واپس آتے تو عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب سے دوسرے راستے سے واپس آتے۔
حدیث نمبر: 475
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ مِنَ الْمُصَلَّى فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَسَلَكَ عَلَى التَّمَّارِينَ مِنْ أَسْفَلِ السُّوقِ، حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ مَسْجِدِ الْأَعْرَجِ الَّذِي عِنْدَ مَوْضِعِ الْبِرْكَةِ الَّتِي بِالسُّوقِ قَامَ وَاسْتَقْبَلَ فَجَّ أَسْلَمَ فَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ.
حافظ محمد فہد
عبد الرحمن تیمی اپنے باپ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا نبی ﷺ عید کے روز عید گاہ سے واپس آئے۔ تو آپ ﷺ بازار کے نیچے سے کھجوریں بیچنے والوں کے پاس سے گزرے۔ حتیٰ کہ جب آپ ﷺ مسجد الاعرج کے پاس آئے جو بازار میں کچے تالاب کے پاس تھی، آپ ﷺ پاؤں کشادہ کر کے، قبلہ رخ ہو کر قبیلہ سلم کے پاس کھڑے ہو گئے، آپ ﷺ نے دعا کی پھر واپس تشریف لے آئے۔
حدیث نمبر: 476
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا غَدَا إِلَى الْمُصَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ كَبَّرَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ جب عید کے روز عید گاہ کی طرف نکلتے تو بلند آواز سے تکبیرات کہتے۔
حدیث نمبر: 477
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَيُكَبِّرُ بِالْمُصَلَّى حَتَّى إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ تَرَكَ التَّكْبِيرَ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ عید الفطر کے دن عید گاہ کی طرف صبح کو اس وقت جاتے جب سورج طلوع ہو جاتا، وہ عید گاہ میں تکبیرات کہتے یہاں تک کہ جب امام بیٹھ جاتے تو تکبیرات ختم کر دیتے۔